خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 237 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 237

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۲۳۷ خطبہ جمعہ ۱۴ را کتوبر۱۹۷۷ء سورۃ بقرۃ کی آیت کے اس ٹکڑے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے رسول ! ہدایت دینا تیرا کام نہیں ہے یہ خدا کا کام ہے وہ جس کے اعمال قبول کرے گا اسے ہدایت یافتہ گروہ میں شامل کر دے گا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں انسان کے ساتھ داعی الی الخیر لگا ہوا ہے یعنی انسان کی فطرت کی وہ آواز جو اسے نیکی کرنے پر ابھارتی ہے لیکن صرف یہی نہیں بلکہ تعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى (المائدة: ۳) کی رو سے بیرونی اثرات کا بھی دخل ہے۔چنانچہ اس مضمون کو زیادہ واضح طور پر ذیل کی آیہ کریمہ میں بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔ادع إلى سَبِيلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (النحل : ١٢٦) اے رسول ! لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ذریعہ اپنے رب کی راہ کی طرف بلا۔کوئی سختی نہیں کرنی۔لفظی سختی بھی نہیں کرنی سوائے اس کے کہ کسی کی بھلائی مدنظر ہو کیونکہ ان رَبِّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِین یہ تو اللہ کوعلم ہے کہ واقع میں وہ کون شخص ہے جس نے پورے طور پر داعی الی الشر کی بات مان کر خدا تعالیٰ کی راہ سے دوری اختیار کرلی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے جن کے اعمال اور مجاہدہ اور کوششوں کو قبول کرتا ہے جو ہدایت کے راستوں میں کی جاتی ہیں تو بعض جگہ سخت الفاظ بولے جاتے ہیں لیکن ان میں غصے کا اظہار نہیں ہوتا۔آخر ہر سخت کلمہ غصے کے نتیجہ میں تو نہیں بولا جاتا۔مثلاً ہمارا اپنا تجربہ ہے، سمجھ دار ماں باپ بھی جانتے ہیں کہ گھروں میں ڈیڑھ دو سال کا بچہ جو کچھ کچھ بات سمجھتا ہے اس کو اگر غصے والی شکل بنا کر کسی بات سے منع کریں تو وہ رونے لگ جائے گا اور وہی فقرہ مسکراتے ہوئے کہیں تو وہ بھی مسکرانے لگ جائے گا۔پس خدا تعالیٰ اور اس کے بندے اس معنی میں غضب کا اظہار نہیں کرتے جس معنے میں ایک مغضوب الغضب انسان غضب کا اظہار کیا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی اپنے لئے غضب کا لفظ استعمال کیا ہے وہاں بھی دراصل اس کی رحمت کا ہی کوئی نہ کوئی پہلو بیان ہوا