خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 236
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۳۶ خطبہ جمعہ ۱۴ /اکتوبر ۱۹۷۷ء اسی مضمون کو ایک دوسری جگہ بیان کیا۔فرمایا:۔إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ - (القصص: ۵۷) اے رسول ! جس کو تو پسند کرے اس کو ہدایت نہیں دے سکتا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ وہ کسی کو ہدایت دے یا نہ دے۔یہ الگ طور پر ایک لمبا مضمون بن جاتا ہے اس کی تفصیل میں تو اس وقت نہیں جاؤں گا۔جو شخص ہدایت پانے کی کوشش کرتا ہے یعنی ایمان لاتا ہے اور پھر اس کے مطابق عمل بھی بجالاتا ہے تو اگر چہ بشری کمزوریاں انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔ویسے یا د رکھنا چاہیے کہ جب تک دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب نہ کیا جائے اس وقت تک حقیقی کامیابی نصیب نہیں ہوتی اور بظاہر صحیح عقیدہ کے باوجود انسان کے اعمال صالحہ رد کر دیئے جاتے ہیں اور وہ عند اللہ قبول نہیں ہوتے۔ان کے بیچ میں کوئی گندی چیز آجاتی ہے اور چونکہ خدا تعالی کی ذات پاک ہے وہ کہتا ہے میں ایسے عمل کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس لئے ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ تم اچھے عمل کرنے کے بعد دعا سے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کو جذب کرو تا کہ تمہارا ایمان خدا تعالیٰ کے حضور قبول ہو جائے۔فرمایا وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ خدا تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے آخری فیصلہ اسی کے اختیار میں ہے کیونکہ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ وہ جانتا ہے کہ کون ہدایت یافتہ ہے اور کون نہیں ہے۔کسی شخص کے اعمال واقعی قبول ہو جائیں گے اور اس کی بشری کمزوریوں کو معاف کر دیا جائے گا اور وہ ہدایت یافتہ گروہ میں آجائے گا۔پھر اسی مضمون کو ایک اور جگہ بیان کیا۔فرمایا:۔ليْسَ عَلَيْكَ هُدبُهُمْ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ (البقرة: ۲۷۳) اے رسول ! لوگوں کو ہدایت کی راہ پر لانا تیرے ذمہ نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا کام ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت کی راہ پر لے آتا ہے۔قرآن کریم کی یہ بھی ایک عجیب شان ہے۔ہم اپنے ایک خاص مضمون کے لئے آیات قرآنیہ سے ایک ایک فقرہ اٹھاتے ہیں تو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شاید تکرا ر ہے اور ایک ہی بات کو دہرایا گیا ہے۔بات دہرائی نہیں جاتی بلکہ ایک نئے پیرا یہ میں ایک نئی بات بتائی جاتی ہے۔