خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 220
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۲۰ خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر۱۹۷۷ء پس یہ جو کائنات ہے اور جو ماوراء کا ئنات ہے اس کا ہم ہلکا سامبہم سا تصور ذہن میں لائیں تب ہمیں کچھ شعور حاصل ہو سکتا ہے۔اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کس معنی میں غیر محدود ہے یہ ہمیں اسلام نے بتایا ہے کہ خدا کی ذات قطعی طور پر غیر محدود ہے اس کی حد بست نہیں کی جاسکتی۔وہ کائنات کے ہر حصہ میں ہر وقت اسی طرح موجود ہے جس طرح وقتی طور پر ایکسرے کی شعاعیں انسان کے جسم کے بعض حصوں میں جہاں سورج کی روشنی نہیں جاسکتی وہاں موجود ہوتی ہیں۔پس اصل نور جو ہے وہ خدا کا ہے۔میں نے قرآن کریم میں لفظ ” نور“ پر بڑا غور کیا ہے۔نور خدا ہی کا ہے دوسری چیزوں کے لئے جب ہم نور کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو وہ مجازی معنے میں کرتے ہیں۔حقیقی معنے میں نور اللہ ہی کا ہے۔مثلاً خدا کے نور میں اور ایکسرے کی شعاعوں میں غیر محدود فاصلے ہیں یعنی اتنی کثیف ہے ایکسرے کی شعاع خدا تعالیٰ کے نور کے مقابلے میں کہ اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔سورج ہے اس کی روشنی اندر نہیں آرہی۔اس کو دیواروں نے روک لیا ہے۔ایکسرے کی شعاعیں ایک حد تک جسم کے اندر داخل بھی ہو گئیں اور بہت سی چیزیں جو دوسری روشنی کی شعاعوں کو روکتی ہیں وہ نہ رہیں لیکن خدا تعالیٰ کا نور ہر چیز میں سرایت بھی کر رہا ہے اور اس سے جدا بھی ہے۔اس سے ایک اور بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے اس کے متعلق میں آگے بیان کروں گا۔پس اصل نور خدا کا نور ہے اور کائنات بھی اسی نور سے معمور ہے اور کائنات کا کوئی ذرہ بلکہ اس ذرہ کا اربواں حصہ بھی اس سے خالی نہیں اور جو ماوراء کا ئنات ہے وہ بھی خدا کے نور سے معمور ہے۔پس ایک لحاظ سے خدا تعالیٰ قریب ہے۔جیسا کہ فرمایا کہ اللهُ نُورُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ اور پھر فرما یا نَحْنُ أَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ( 3 : ۱۷) اور بہت سی آیات ہیں جو بتاتی ہیں کہ خدا تعالیٰ انسان کے کتنا قریب ہے گویا خدا تعالیٰ کا جو نور ہے اس کا کائنات کے ہر ذرہ سے ایک پختہ تعلق ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ تعلق قائم نہ رہے اور جہاں وہ تعلق نہ رہے وہاں فنا آجاتی ہے۔وہ چیز جو خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کرے وہ قائم نہیں رہ سکتی۔جب اس کا ئنات پر فنا آتی ہے چھوٹے پیمانے پر بھی اور بڑے پیمانے پر بھی تو وہ فنا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نور کا تعلق اس سے