خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 91
خطبات ناصر جلد ہفتم ۹۱ خطبه جمعه ۲۲ ۱٫ پریل ۱۹۷۷ء کو بھی بتا یا کہ تم اپنے حقوق کے لئے لڑتے ہو، سٹرائیکس کرتے ہو۔میں انہیں سمجھا تا رہا ہوں کہ تمہارا مزدور اپنے حقوق کے لئے سٹرائیکس کرتا ہے لیکن اس کو یہ پتہ نہیں کہ اس کے حقوق ہیں کیا ؟ عجیب طرفہ تماشہ ہے کہ اپنے حقوق کو پہچانتا نہیں اور اپنے حقوق کے لئے کوشش اور جد و جہد کر رہا ہے۔اسلام نے اس کے جو حقوق ہمیں قرآن کریم میں بتائے ہیں وہاں تک تو انسانی دماغ نہ پہنچ سکتا تھا نہ پہنچا۔اب ہمارے بتانے کے بعد اسی کے مطابق کہیں کہیں سے کوئی ایسی آواز اور وہ بھی جس طرح اندھیروں میں سے اٹھی ہوئی آواز ہوتی ہے ) آنی شروع ہوئی ہے۔قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی قوتیں اور استعداد میں عطا کی ہیں۔ان استعدادوں کے چار گروہ ہیں۔جسمانی طاقتیں اس کو دی گئی ہیں، ذہنی طاقتیں اسے عطا کی گئی ہیں ، اخلاقی قوتوں سے اللہ تعالیٰ نے اسے نوازا ہے اور پھر روحانیت کے میدان میں آگے بڑھنے کی بڑی قابلیت اس کو عطا کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ ہر انسان کا یہ حق ہے کہ اس انسان کی جتنی قوتیں اور استعدادیں ہیں ان کی کامل نشو و نما کے لئے جن مادی اور غیر مادی اشیاء کی ضرورت ہے وہ اسے ملیں اور جب وہ پوری طرح نشو و نما حاصل کر لے ایک وقت بلوغت کا آجا تا ہے، اگر چہ ترقی تو پھر بھی ہوتی رہتی ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ اس کی کامل نشو و نما ہو گئی ہے تو کامل نشوونما کے مقام پر کھڑے رہنے کے لئے اسے جس چیز کی ضرورت ہے وہ اسے ملنی چاہیے۔میں بتایہ رہا ہوں کہ قرآنی علوم اور روحانی علوم کے لئے تقویٰ کی شرط ہے۔ظاہری علوم خواہ تحقیق سے تعلق رکھتے ہوں یا نقلی علوم ہوں مثلاً یہ کہ بخاری شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی کس طرح تفسیر فرمائی ہے یا محی الدین ابن عربی نے اسلامی موضوعات پر کیا لکھا ہے یہ نقلی علوم ہیں جو ان کو پڑھے گا خواہ وہ دہریہ ہو یا عیسائی ہو یا یہودی ہو یا بدھ مذہب سے تعلق رکھتا ہو یا سنا تنی ہو ، جو بھی ان کتابوں کو پڑھے گا اگر اس کو خدا نے حافظہ دیا ہے اور علوم کے سمجھنے کی طاقت دی ہے تو وہ سمجھ جائے گا کہ فلاں نے یہ کہا لیکن اسلام کی اصطلاح میں یہ علم ہے ہی نہیں۔ہمارے بزرگوں نے علم کے معنی یہ کر دیئے ہیں کہ علم اس روشنی کو کہتے ہیں ( تقویٰ کے نتیجہ میں جو روشنی ملتی ہے وہ انسان کی ساری را ہوں کو منور کر دیتی ہے ) چنانچہ علم کے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ علم