خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 90 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 90

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۱/۲۲ پریل ۱۹۷۷ء تقویٰ کے بندھنوں میں ان کو باندھا گیا اور دنیا کی بھلائی اور خیر خواہی کے سامان پیدا کئے گئے۔جہاں تک دنیوی علوم کا تعلق ہے وہ میری اس تمہید کے بعد دوحصوں میں بٹ جائیں گے۔ایک ایسے دنیوی علوم کا حصول اور ان کا استعمال جو تقویٰ کی بنیادوں پر نہیں اور ایک ایسے دنیوی علوم کا حصول اور ان کا استعمال جو تقویٰ کی بنیادوں کے اوپر قائم ہے۔انسان کی حقیقی فلاح اور خیر کے لئے وہی علوم ہیں ، وہی تحقیق ہے، وہی Discoveries (ڈس کو ریز ) ہیں۔دست قدرت نے جو پیدا کیا اس کے نئے رموز کا حاصل کرنا ہے جو تقویٰ کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔جس وقت انسان زیادہ بہک جائے تو کہتا ہے کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے ہم خود ہی اپنے کام سنبھال لیں گے۔سب سے زیادہ علم تو میں نے بتایا ہے کہ اس دنیا کے انسان نے حاصل کیا اور سب سے زیادہ ہلاکت کے سامان اس دنیا کے انسان نے پیدا کئے ، سب سے زیادہ تعداد میں انسانوں کو اس دنیا کے انسان نے ہلاک کیا۔انہوں نے جاپان میں جو دو اٹامک بم گرائے تھے امریکہ کی بڑی مہذب دنیا نے جو اس وقت دنیوی علوم میں دنیا کی راہبر ہے اور قیادت ان کے ہاتھ میں ہے انہوں نے ایک بم سے سارا شہر تباہ کر دیا، بچے بوڑھے دودھ پیتے بچے بھی اور بوڑھی عورتیں بھی ان میں شامل تھیں، کئی لاکھ آدمی کو آن واحد میں تباہ کر دیا لیکن جب انسان خدا تعالیٰ کے احکام اور اس کے نواہی کے نیچے خود کو کر لیتا ہے تو ہر فعل سے پہلے اسے سوچنا پڑتا ہے کہ یہ کام میرے رب کو ناراض کرنے والا تو نہیں۔پھر حقیقی تقویٰ اسے نور عطا کرتا ہے۔وَيَجْعَلُ تَكُمْ نُورًا تمشُونَ بِه (الحدید: ۲۹) کہ تمہیں ایسا نور عطا کیا جائے گا جو تمہاری ساری راہوں پر حاوی ہوگا۔تمہارے اقوال پر بھی حاوی ہوگا، تمہارے افعال پر بھی حاوی ہوگا، تمہارے حواس پر بھی حاوی ہوگا اور خدا تعالیٰ نے جو قو تیں اور استعدادیں تمہیں عطا کی ہیں ان پر بھی حاوی ہوگا۔پس تقویٰ سے ایک تو علوم زیادہ ملتے ہیں، ظاہر ہے، کیونکہ ایک تو علوم کا وہ مجموعہ ہے جس میں روحانی علوم شامل نہیں اور ایک علوم کا وہ مجموعہ ہے جس میں ظاہری دنیوی علوم بھی شامل ہیں اور روحانی اور اخلاقی علوم بھی شامل ہیں یعنی قرآن کریم کے علوم جو تقوی کی بنیاد پر تزکیۂ نفس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے انسان حاصل کرتا ہے۔پھر ان کا استعمال ہے۔میں نے یورپ اور امریکہ