خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 64 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 64

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۶۴ خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۷۷ء کے لحاظ سے اُمت محمدیہ اور پہلی امتوں میں ایک بہت بڑا فرقان تمیز پیدا کرنے والا ہے کہ کچھ ہو جائے ، زمین و آسمان تہ و بالا ہو جائیں، دنیا کے لحاظ سے زندگی اجیرن بن جائے یعنی لوگ یہ سمجھیں کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ تکلیف میں گزرنے والا ہے جیسا کہ شعب ابی طالب میں کم و بیش اڑھائی سال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو اس طرح قید میں رکھا گیا کہ باہر سے کھانے پینے کا سامان بھی نہیں جاسکا۔خدا تعالیٰ نے ایسا سامان تو پیدا کیا گو تاریخ نے ہمیں نہیں بتایا کہ وہ کیا سامان تھا لیکن بہر حال ایسا سامان پیدا کیا کہ ان کو بھوکا نہیں مارا، مگر انتہائی تنگی کے زمانہ میں سے وہ گذرے لیکن ان کے چہروں کی مسکراہٹیں تو نہیں چھینی گئی تھیں ، اس زمانہ میں انہوں نے اپنے رب سے اپنا تعلق تو قطع نہیں کر لیا تھا۔اس کو کہتے ہیں تعلق ذاتی ، خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت کا تعلق رکھنا اور یہ قلب کے ساتھ ہے۔انسان کا دل سوچتا ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات پرغور کرتا ہے۔خدا تعالیٰ نے جو اس جہان کو پیدا کیا اس عالمین کو پیدا کیا اس کے مختلف پہلوؤں پر جب انسان نظر رکھتا ہے تو اس نتیجے پر پہنچتا ہے اور کہتا ہے علی وجہ البصیرت کہتا ہے کہ میرے رب نے کسی چیز کو بے مقصد نہیں پیدا کیا۔- يَذْكُرُونَ اللهَ فِيمَا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ وَ يَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبُحْنَكَ (ال عمران: ۱۹۲) کہ تو پاک ذات ہے تو نے کوئی چیز بے مقصد نہیں بنائی۔مومنوں پر الہی سلسلوں پر جو ابتلا آتے ہیں وہ بھی بے مقصد نہیں وہ ان کو مارنے کچلنے اور ہلاک کرنے کے لئے تو نہیں آیا کرتے ، وہ ان کی شان ظاہر کرنے کے لئے وہ ان کی روحانی ترقیات کے لئے ، وہ خدا تعالیٰ کے پیار کے زیادہ حصول کے سامان پیدا کرنے کے لئے آیا کرتے ہیں۔وہ بے مقصد نہیں ہیں ان کا مقصد ہے اور بڑا عظیم مقصد ہے۔بڑا حسین مقصد ہے۔بڑا پیارا مقصد ہے۔مومن یہ سوچے گا کہ ایٹم کی طاقت بے مقصد نہیں ہے اور خدا تعالیٰ نے مقصد اصولی طور پر قرآن کریم میں یہ بتایا ہے کہ وَسَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ۱۴) که بلا استثناء ہر چیز کو انسان کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ایٹم کی طاقت کا بھی یہی مقصد ہے لیکن جنہوں نے ایٹم کی طاقت کو نکالا وہ اس کا استعمال