خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 60 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 60

خطبات ناصر جلد ہفتم ۶۰ خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۷۷ء معلوم کیا جائے لیکن عظمند آدمی حیران ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ ان مہلک ہتھیاروں کو محدود کرنے کا جو طریق سوچا جاتا ہے وہ ایسا ہی ہے کہ جیسے دو پہلوان کشتی کر رہے ہوں اور ایک پہلو ان دوسرے کو پچھاڑنے کے لئے داؤ لگا رہا ہو یعنی نیت یہ نہیں ہے کہ واقعہ میں ان ہتھیاروں پر کوئی پابندی لگائی جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ اپنے حریف کو ، اپنے مد مقابل کو کمزور کیا جائے۔پھر جنہوں نے مہلک ہتھیاروں کے بنانے میں پہل کی اور آگے نکل گئے انہوں نے پیچھے رہنے والوں پر زور دینا شروع کیا کہ تم ان ہتھیاروں کو نہ بناؤ۔اگر تم نے بنالئے تو دنیا ہلاک ہو جائے گی ( ہم نے بنائے تو دنیا ہلاک نہیں ہوگی ) نا معقول بات ہے۔بہر حال میں اس وقت کوئی سیاسی تبصرہ تو نہیں کرنا چاہتا نہ میرا وہ مقصد ہے میں اس طرف توجہ دلا رہا ہوں کہ قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے ذکر سے اعراض کرے گا وہ مَعِيشَةً ضَنكًا (طه: ۱۲۵) میں گرفتار کیا جائے گا۔بے اطمینانی کی زندگی بے چینی کی زندگی اسے میسر ہوگی۔جب یہ ساری چیزیں سامنے آتی ہیں تو ہمیں اس عظیم اعلان کی صداقت اور عظمت کا احساس ہوتا ہے کہ کس طرح انسان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آج سے چودہ سو سال پہلے اس طرف توجہ دلائی گئی تھی کہ اگر تم تسکین اور اطمینان کی زندگی چاہتے ہو تو تمہیں خدا تعالیٰ کے ذکر کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور اگر تو جہ نہیں کرو گے تو تمہیں بے اطمینانی، بے چینی ، گھبراہٹ ،خوف اور وحشت کا سامنا کرنا پڑے گا اور نروس بریک ڈاؤن یعنی اعصاب پر بڑا دباؤ پڑے گا اپنی حرکات اور اعمال کے نتیجہ میں۔اگر ہم نے ایک لفظ بولنا ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ جہنم کی زندگی ہے تو وہ جہنم کی زندگی تمہارے مقدر میں ہو جائے گی۔بداخلاقیاں ہیں جرائم ہیں ان کی کثرت ہے۔میں امریکہ کے دورے پر گیا تو نیو یارک جو دنیا میں بہت بڑا اور عظیم شہر سمجھا جاتا ہے ساری دنیا کی تنظیم U۔N۔O (یو۔این۔او ) کا مرکز ہے اور بڑا ترقی یافتہ ہے۔سومنزلہ سے بھی زیادہ منزلوں کے انہوں نے بلا کس بنالئے ہیں اور ظاہری مادی لحاظ سے بڑی ترقی کی ہے وہاں کا یہ حال ہے کہ مکرم مسعود جہلمی صاحب جو اس وقت نیو یارک میں مبلغ ہیں کہنے لگے (وہاں خدا کے فضل سے ہماری مسجد ہے اور مشن ہاؤس ہے ) کہ جب میں یہاں آیا تو مجھے جماعت نے کہا کہ