خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 563
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۶۳ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۸ء پس آپ کی ذات قرآن کریم کے ہر حکم پر عمل کرنے والی ایک مقدس اور پاک اور مطہر ذات تھی۔آپ نے اپنے وجود میں ایک کامل نمونہ پیش کیا۔اس لئے ہم احمدی یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ آپ نے قرآن کریم کے خلاف کوئی ایسی بات کہہ دی ہو جو قرآن کریم میں ہمیں نہ ملے یا اس سے زائد ہو۔نہ کوئی زائد بات ملتی ہے اور نہ خلاف۔پس قرآن کریم میں آزادی ضمیر اور آزادی عقیدہ کی اتنی حسین تعلیم ہمیں دی گئی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی اور جیسا کہ میں نے شروع میں بتا یا تھا یہ تعلیم نمونہ ہے دنیا کے دیگر مذاہب کے لئے بھی۔اس وقت دنیا میں بہت سے مذاہب پائے جاتے ہیں۔وہ جس شکل میں بھی ہیں ان کے لئے بھی اور ان مفکرین کے لئے بھی جنہوں نے اپنے اپنے Isms ( مکتب ہائے فکر ) پیدا کئے ہیں ان کے لئے اسلام ایک نمونہ ہے اور بتاتا ہے کہ دیکھو ضمیر اور عقیدہ کی آزادی انسانی زندگی کا بنیادی حق ہے اور اسی غرض کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔اگر انسان اپنے ضمیر اور عقیدہ کے اظہار میں آزاد نہیں۔اگر انسانوں کو دوسرے انسانوں نے بھیڑ اور بکری کی طرح دھکیل کر اسلام کے دائرہ کے اندر لانا ہے تو پھر خدائے واحد و یگانہ کی طرف سے کسی عمل کی کوئی جزا نہیں ہے۔کیا تم خدا تعالیٰ کو مجبور کرو گے کہ تم بعض لوگوں سے جو منافقانہ اعمال کروار ہے ہو خدا مجبور ہو جائے اور ان کو اپنے پیار سے نو از نا شروع کر دے۔زبر دستی کسی کو مسلمان بنا لیا اور یہ اس کو یقین دلایا کہ تیرے دل میں تو اسلام نہیں لیکن دکھاوے کی نمازیں پڑھا کرو خدا تمہیں جزا دے دے گا۔یہ سمجھنا کہ علام الغیوب خدا کو ایسے شخص کے نفاق کا پتا ہی نہیں لگے گا۔اس کی دلی حالت کا پتا ہی نہیں لگے گا۔حالانکہ خدا تو کہتا ہے میں تمہارے دل کے پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہوں۔اس کے متعلق یہ سمجھنا کہ نعوذ باللہ وہ ان باتوں سے ناواقف ہے، بہت بڑی جسارت ہے اور اگر اسے پتا ہوگا تو وہ جزا کیسے دے گا کیونکہ وہ تو ساری ریا ہے۔اور اگر تم کسی کو زبردستی جس کے دل میں ایمان ہے اور شرح صدر ہے اور فدائیت ہے اور معرفت ہے اور عرفان صفات باری ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار ہے اور اس پیار سے مجبور ہو کر وہ خدا تعالیٰ کی بات مانتا ہے اور اس کی