خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 562
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۶۲ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۷۸ء ہے سوائے اس کے کہ اس جرم میں ان کو بھی قتل کیا جاتا اس کی اور کوئی سزا نہیں تھی۔پس اگر وہ اسلام نہ چھوڑتے تب بھی ان کی یہی سزا تھی جب ان کو قتل یا مسلح بغاوت کی یہ سزا ملی تو اسے ارتداد کی سزا کیسے سمجھ لیا گیا۔یہ تو تاریخی واقعات ہیں جن سے کسی کو مجال انکار نہیں۔پس جہاں تک اس مضمون کے عقلی اور شرعی پہلو کا تعلق ہے قرآن کریم نے اسے کھول کر بیان کر دیا ہے اور قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے اس کے اندر کوئی نقص یا خامی نہیں ہے کہ جسے پورا کرنے کے لئے ہمیں کسی تاریخی واقعہ یا کسی ضعیف حدیث کا سہارا لینا پڑے۔اس لئے کہ جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے، جماعت احمد یہ یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحیح فرمودات اور ارشادات قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت کی تفسیر ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد ایسا نہیں ہے جو قرآن کریم کے مخالف ہو یا اس کی ضد ہو یا قرآن کریم سے زائد ہمیں کچھ بتا رہا ہو یا (نعوذ باللہ ) قرآن کریم کے بعض حصوں میں کمی کر رہا ہو۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ کامل رسول تھے جنہوں نے قرآن کریم پر پورا عمل کر کے دنیا کے لئے ایک احسن نمونہ پیش کیا ان پر یہ اتہام لگانا کہ انہوں نے قرآن کریم کے بعض حصوں پر عمل نہیں کیا تھا بلکہ عمل نہ کرنے کی تلقین کی تھی اس سے بڑی گستاخی میرے خیال میں تو کوئی اور ہو نہیں سکتی۔پس جہاں تک ہم احمدیوں کا تعلق ہے تمام احمدی اس بات کو اپنی گرہ میں باندھ لیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے وہ پیارے رسول ہیں جن کے متعلق یہ کہا گیا ہے۔عشق محمد ربه گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے عاشق صادق تھے۔آپ نے اپنے رب سے اتنا پیار کیا کہ گویا اپنے رب میں فنا ہو گئے اسی لئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ صفات باری کے مظہر اتم تھے اور آپ قرآن کریم کی عظمت اور جلال کو جس طرح سمجھتے تھے وہ آپ کی زندگی سے عیاں ہے۔قرآن کریم کا کوئی ایسا حکم نہیں جس پر آپ نے عمل کر کے نہ دکھایا ہو اور کوئی ایسی نہی نہیں جس سے آپ نے اجتناب نہ کیا ہو۔