خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 534
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۳۴ خطبہ جمعہ ۱۵/ دسمبر ۱۹۷۸ء کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کامل اُسوہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمارے سامنے رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔لَقَد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: ۲۲) یہ ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال اور آپ کی عظمت شان اور جب پہلے بزرگ انبیاء پر آپ کی شان کو ظاہر کیا گیا تو انہوں نے بھی آپ کے وجود میں خدا تعالیٰ کے کامل نور کو مشاہدہ کیا اور بہتوں نے کہا کہ اس کا آنا خدا کا آنا ہوگا۔پس لقد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ کے مطابق حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلامی شریعت کے ہر حکم پر احسن رنگ میں عمل پیرا ہوکر اور اپنی فطرت کی ہر قوت اور استعداد کو کامل نشو و نما دے کر اور اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ میں کامل طور پر فنا کر کے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ایک ایسا بلند اور ارفع مقام پیدا کیا کہ آپ رہتی دنیا تک نوع انسانی کے لئے بطور شفیع کے قرار دیئے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شفاعت کے مضمون کو بڑے حسین پیرائے میں کھول کر بیان کیا ہے۔یہ مضمون تو میں اپنے کسی آئندہ خطبہ میں انشاء اللہ اور اُسی کی توفیق سے بیان کروں گا۔اس وقت میں مختصر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بطور اسوہ کے ہمارے لئے کافی ہیں کسی اور کے اُسوہ کی احباب جماعتِ احمدیہ کو ضرورت نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے ان راہوں کو اختیار کرناضروری ہے جو انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں اور ہر وہ راہ جو خدا تک پہنچاتی ہے اس پر ہمیں آج بھی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نقش پا شبت نظر آتے ہیں۔میں نے لندن میں غیر مسلم دنیا سے جو زیادہ تر عیسائی دنیا ہے، یہی کہا تھا کہ جن راہوں پر چل کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سلم نے اپنے خدا کے پیار کو حاصل کیا ان راہوں پر آپ کے نقش پا آج بھی نظر آتے ہیں۔آپ کے نقش پا پر چلو تم خدا کے پیار کو حاصل کرلو گے۔خدا تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل فطرت عطا کی تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ توفیق بھی عطا کی کہ آپ اپنی اس کامل فطرت کی کامل نشو ونما کریں اور بنی نوع انسان