خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 535 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 535

خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۳۵ خطبہ جمعہ ۱۵/ دسمبر ۱۹۷۸ء کے لئے ایک کامل اسوہ بن جائیں۔آپ کا یہی کامل اور حسین اُسوہ دراصل آپ کے شفیع ہونے پر دلالت کرتا ہے۔شفیع کے معنے یہ ہیں کہ ایک طرف خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کر کے صفات باری تعالیٰ کے مظہر اتم بن جانا اور دوسری طرف نوع انسانی کی ہمدردی کا اس قدر شدت کے ساتھ وجود میں موجزن ہونا کہ ہر قسم کی بھلائی اور خیر پہنچانے کی تڑپ کے نتیجہ میں ہر قسم کی خیر اور بھلائی پہنچادینے کی راہ کو کھول دینا، یہ دونوں قو تیں آپ کی زندگی اور ہستی کے دو پہلو ہیں جو آپ کے مقام شفاعت پر دلالت کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ سے سارے فیوض کو حاصل کرنے کی طاقت رکھتے ہوئے عملاً حاصل کر بھی لینا اور ان تمام فیوض کو بنی نوع انسان کی طرف پہنچانے کی قابلیت رکھتے ہوئے ایک ایسا نمونہ دنیا کے سامنے رکھ دینا کہ خدا تعالیٰ کے پیار کو ہر دروازے سے حاصل کرنے کے لئے سہولت پیدا ہو جائے اور یہی وہ کامل نمونہ ہے جو صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں پایا جاتا ہے۔پس پہلا پیار ہمارا اپنے رب کریم سے ہے اور پھر اس سے ہے جس نے ہمارے رب کی ہمیں راہیں دکھا ئیں یعنی محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔آپ نے اپنے رب سے اس قدر پیار کیا کہ کسی اور انسان نے اس قدر پیار کر کے خدا تعالیٰ کے اتنے نور کو حاصل نہیں کیا جتنا آپ نے کیا اور پھر اس نور کو آگے قیامت تک پہنچانے کے سامان بھی پیدا کر دیئے۔غرض ہمارے لئے خدا اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہی کافی ہیں۔کسی اور کی ہمیں ضرورت نہیں۔ہر احمدی کو ہر وقت یہ فکر رہنی چاہیے کہ کہیں اس کا قدم کسی ایسے راستے پر نہ جا پڑے جس پر مد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کا نقش ہمیں نظر نہیں آتا اور اس طرح ہم خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے نہ بن جائیں بلکہ ہم ہمیشہ ان راہوں پر عمل کرنے والے ہوں جن راہوں کو اختیار کر کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی رضا اور پیار کو حاصل کیا تھا۔اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے۔(آمین) (روز نامه الفضل ربوه ۲۶ را پریل ۱۹۷۹ء صفحه ۲، ۳) 谢谢谢