خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 485 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 485

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۸۵ خطبه جمعه ۳/ نومبر ۱۹۷۸ء قابل اعتراض نہیں ہوتیں لیکن اگر وہی چیز سڑکوں پر کی جائے تو وہ قابل اعتراض ہو جاتی ہے۔بعض ایسی باتیں ہیں کہ اگر مردوں میں ہو رہی ہوں تو اتنی زیادہ قابلِ اعتراض نہیں ہوتیں لیکن اگر کوئی بہن وہاں سے گذر رہی ہو اور اس کے کانوں میں بھی وہ آواز پڑ جائے تو وہ بات بڑی سخت قابلِ اعتراض ہو جاتی ہے کہ تم نے اپنی بہنوں کا خیال نہیں رکھا اور اپنی زبانوں کو قابو میں نہیں رکھا۔پس خاص طور پر یہ کہا گیا ہے کہ اپنے ماحول کی فضا کو جس میں Sound Waves ( ساؤنڈ ویوز ) یعنی صوتی لہریں ہر وقت چل رہی ہیں صاف رکھو۔جب ہم بولتے ہیں تو آواز کی لہریں چلتی ہیں ان میں گندگی نہیں ہونی چاہیے۔وہ بھی صاف ہونی چاہئیں۔پھر ایک مرکب گندگی یہ ہے کہ کوئی لڑ پڑے۔اس میں آواز بھی آئے گی اور دیکھنے والا اور پاس سے گزرنے والا بھی بڑی کراہت محسوس کرے گا کہ جو بھائی بنیان مرصوص بنائے گئے ہیں ان کا آپس میں جھگڑا ہو رہا ہے اور ہو بھی پبلک پلیس (Public Place) پر رہا ہے۔اجتماعات میں اس قسم کے واقعات ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے کیونکہ بڑے اجتماعات میں بعض دفعہ ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنے میں سستی ہو جاتی ہے لیکن بعض بڑے اچھے نمونے ہیں۔میں جلسے کے متعلق ہی بتا دیتا ہوں۔چھوٹی سی بات ہے لیکن بڑی بات بھی ہے۔قادیان کا واقعہ ہے میں اس وقت بہت چھوٹا تھا تاہم ابھی تک وہ نظارہ میرے سامنے ہے۔میں اتنا چھوٹا تھا کہ میرے ذمے کوئی کام نہیں لگایا جاسکتا تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ماموں حضرت میر محمد الحق صاحب جن کو ہم بھی ماموں کہتے تھے افسر جلسہ سالانہ تھے۔وہ مجھے اپنے دفتر میں بلا لیتے تھے تا کہ مجھے کام کی عادت پیدا ہو اور جماعت کے کاموں سے پیار پیدا ہو اور کہتے تھے کہ فلاں جگہ چلے جاؤ یہ پتا کر کے آؤ یا یہ خط پہنچا دو اس قسم کے چھوٹے موٹے کام وہ مجھ سے لیا کرتے تھے۔ایک دن شام کو ان کے اندازے کے مطابق مہمان کھانے سے فارغ ہو چکے تھے مجھے کہا کہ ذرا فلاں کمروں میں دیکھ کر آؤ کہ ان سب نے کھانا کھالیا ہے اور آرام سے ہیں کسی کو کوئی تکلیف تو نہیں۔مدرسہ احمدیہ کے چھوٹے چھوٹے کمرے تھے آپ میں سے تو بہت سے ایسے ہیں جن کو پتا نہیں کہ مدرسہ احمدیہ کی شکل کیا تھی اور اس کے کمرے کس قسم کے تھے