خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 484
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۸۴ خطبه جمعه ۳/ نومبر ۱۹۷۸ء شرکت کے لئے آئیں گے چلنا ہے ان راستوں کو صاف کیا جائے۔ان کے گڑھوں کو پر کیا جائے۔جو غیر ہموار جگہیں ہیں ان کو ہموار کیا جائے تاکہ انہیں ٹھوکر نہ لگے۔یہ شہر کی صفائی کا حصہ ہے اور اس کا تعلق لمس سے ہے۔پھر صفائی کا تعلق ناک سے بھی ہے۔ربوہ میں سڑکوں پر یا راستوں پر یا ایسی جگہوں پر جن کے قریب سے ہم نے گزرنا ہے یا ہمارے بھائیوں نے گزرنا ہے ایسی گندگی نہ ہو کہ جس سے بد بو اٹھ رہی ہو اور ہمارے ناک کراہت محسوس کریں اور باہر سے آنے والے سوچیں کہ اہل ربوہ کو کیا ہو گیا ہے ان سے اتنا نہیں ہوسکا کہ ہمارے آنے سے پہلے اپنے اس پاک شہر کو اس لحاظ سے بھی پاک کر دیتے۔آپ پر خواہ مخواہ بدنامی کا ایک داغ لگ جاتا ہے۔پس صفائی کا ایک یہ حصہ بھی ہے۔پہلا حصہ تھا مس سے تعلق رکھنے والی صفائی۔ناہموار جگہوں کو ہموار کر دیں۔راہوں کو ایسا بنا دیں کہ کسی کو ٹھوکر نہ لگے اور تکلیف نہ ہوکسی کو موچ نہ آئے اور دوسرے یہ ہے کہ ہمارے ناک بھی ربوہ کو صاف پائیں۔پھر ایک صفائی یہ ہے کہ ہماری آنکھیں بھی ربوہ کو، ربوہ کی سڑکوں کو اور سڑکوں کے گرد جو جھاڑیاں اور درخت ہیں ان کو صاف دیکھیں۔اس صفائی کا تعلق دیکھنے سے ہے۔کئی جگہ کانٹے دار جھاڑیاں اس طرح اگی ہوئی ہوتی ہیں کہ چلنے والے کو بے خیالی میں چھ سکتی ہیں۔یہ لمس سے تعلق رکھنے والی صفائی کا فقدان ہے لیکن وہ آنکھ کو بھی بری لگتی ہیں کہ یہ کیا ہے، چند گھنٹے کا وقارعمل جس چیز کو صاف کر سکتا تھا اس میں غفلت اور سستی برتی گئی ہے۔ایک صفائی کا تعلق کا نوں سے ہے۔قرآن کریم نے ہمیشہ ہی اس قسم کی صفائی کو قائم رکھنے پر زور دیا ہے لیکن خصوصاً اجتماعات کے موقع پر کہا ہے کہ دیکھو اس قسم کا گند بھی فضا میں نہ ہو۔فضا میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آواز کی لہریں ہماری فضا میں چکر لگارہی ہوتی ہیں۔چنانچہ کہا کہ Public Places ( پبلک پلیسز ( میں جن میں سڑکیں بھی ہیں اور سڑکوں کے علاوہ بعض اور مقامات بھی ہوتے ہیں جہاں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں وہاں رفت نہیں ہونا چاہیے، بخش کلامی نہیں ہونی چاہیے۔ایسی بات نہیں ہونی چاہیے جو اچھی نہ لگے اور قبیح ہو۔آگے اس کے کئی درجے ہیں بعض ایسی باتیں ہیں کہ اگر دوست گھر کے اندر بیٹھے ہوئے آپس میں ہنسی مذاق کر لیں تو وہ