خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 467
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۶۷ خطبه جمعه ۱/۲۰ کتوبر ۱۹۷۸ء میری دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو ایسے خادم بنائے۔ہمیں افسر بنے کی کوئی خواہش نہیں۔ہم خادم اچھے ، ہم خادم رہنے میں خوش ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ کا پیار چاہیے۔اللہ تعالیٰ کا پیار اس سے پیار کرنے اور اس کے بندوں سے پیار کرنے کے نتیجہ میں ملتا ہے۔پس خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں تو فیق عطا کرے کہ ہم پوری طاقت کے ساتھ اور پوری توجہ کے ساتھ اور پورے دل کے ساتھ اور روح کی پوری طاقت کے ساتھ اس سے پیار کرنے لگیں۔ہم اس کے بندوں سے بھی پیار کریں اور ان کی بے لوث خدمت کرنے والے ہوں اور اس کے پیار کو حاصل کرنے والے ہوں۔اب خدمت کا ذکر آیا تو چونکہ آج مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کا سالانہ اجتماع ہو رہا ہے۔اس لئے اس کے متعلق بھی میں کچھ مختصراً کہنا چاہتا ہوں۔جماعت احمدیہ کا مسلک یہ ہے اور اس کی روایت یہ ہے کہ یہ قانون کی پابند جماعت ہے۔جماعت احمد یہ تو پچھلی نوے سالہ تاریخ میں یہ نظر آتا ہے کہ جماعت احمد یہ لکی انتظامیہ سے بشاشت کے ساتھ تعاون کرنے والی جماعت ہے۔انتظامیہ کی اپنی ضرورتیں اور دشواریاں ہوتی ہیں اور جماعت ان کو بجھتی ہے چنانچہ پچھلے سے پچھلے سال بعض حالات کی وجہ سے حکومت وقت نے ہمیں خدام الاحمدیہ کے اجتماع کی اجازت نہیں دی تھی تو ہم نے اجتماع نہیں کیا تھا۔ہم تو سیاسی جماعت نہیں اس لئے سیاسی فیصلے کرنا ہمارا کام نہیں یہ سیاست دانوں کا کام ہے یا ان لوگوں کا کام ہے جن کے ہاتھوں میں ملک کی باگ ڈور ہے۔انہوں نے کہا ملکی حالات ایسے ہیں آپ کو اجتماع منعقد نہیں کرنا چاہیے۔ہم نے کہا ٹھیک ہے۔ہم تو اپنے دلوں میں ملک کی بہبود اور استحکام کی خواہش رکھتے ہیں۔نہیں اجتماع کرتے۔پچھلے سال بعض پابندیوں کے ساتھ اجازت دی گئی تھی تو ہم نے اس کے مطابق اجتماع منعقد کیا تھا۔امسال ۲۱ / اگست کو خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے لئے درخواست دے دی گئی تھی کیونکہ اجازت کا معاملہ بہت سے مراحل میں سے گزرنا ہوتا ہے۔حکام نے اپنی Formalities پوری کرنی ہوتی ہیں۔معاملہ پولیس کے پاس جاتا ہے اور انہیں بہر حال لمبی کا رروائی کرنی پڑتی ہے اس لئے ان کو وقت ملنا چاہیے۔یہ تو ہم امید نہیں رکھتے کہ ہم صبح درخواست دیں اور وہ شام کو