خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 453
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۴۵۳ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۸ء کے سارے جسم پر مرہم لگانی پڑی تھی اور اس کی وجہ سے اس کپڑے پر آپ کے نقوش نیگیٹیو کی شکل میں آگئے ہیں چنانچہ اب لوگوں نے پہلی دفعہ حضرت مسیح کی اصل شکل دیکھی ہے۔یونانی چرچ اور اٹیلین چرچ نے دو مختلف شکلیں بنائی ہوئی تھیں اور وہ دونوں غلط ثابت ہوئی ہیں۔بہر حال انہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ اکتوبر میں تحقیق ہو رہی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی طرف سے ان پر دباؤ پڑا ہے کہ جماعت احمدیہ اتنا شور مچارہی ہے اور تم نے ان کو ایک اور ہتھیار دے دیا ہے کہ تم ڈر کے مارے کہتے ہو کہ ہم نے سائنسی تحقیق نہیں کروانی۔یہ میرا خیال ہے صحیح ہے یا غلط اللہ بہتر جانتا ہے۔اس دوسری سائنٹیفک تحقیق کے لئے کم و بیش پچاس سائنسدان آرہے ہیں۔امریکن چوٹی کے ماہرین بھی آرہے ہیں۔ساؤتھ امریکہ جو کہ پکا کیتھولک ہے وہاں کا ایک سائنسدان بھی انہوں نے شامل کر لیا ہے۔ٹھیک ہے شامل کر لو لیکن اصل اعلان یہ ہے کہ ٹیورن میں وہ جو تحقیق کریں گے ، تصویریں لیں گے اور تجربے کریں گے اس کا نتیجہ تیس سال کے بعد بتایا جائے گا۔تحقیق آج کر رہے ہو اور نتیجہ تیس سال کے بعد بتاؤ گےاس میں کیا حکمت ہے۔بہر حال ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ اس طرح انہوں نے اپنی کمزوری کا اعلان کر دیا ہے۔اگر تمہیں دلیری ہوتی تو تم کہتے کہ یہ بھی کر کے دیکھ لو۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر یہ فرمایا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر سرینگر محلہ خانیار میں ہے۔ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ نہ نہ اسے کھودنا نہ کہ ہمیں یہ وہم ہو کہ اگر اسے کھودا گیا تو اندر سے کچھ اور نکل آئے گا جیسے کہ لوگ اب یہاں تک پہنچے ہوئے ہیں کہ جب میں انگلستان میں تھا تو ہندوستان میں کسی نے یہ خبر چلا دی کہ وہ قبر کھودی گئی اور اندر سے گدھے کی قبر نکلی۔یہ بات ہندوستان کے کسی اخبار میں چھپ گئی حالانکہ قبر بالکل نہیں کھودی گئی۔پریس کانفرنس میں مجھ سے پوچھتے بھی رہے اور میں کہتا رہا ہوں که ضرور کھودنی چاہیے۔ہم نے وہاں ریزولیوشن بھی پاس کیا تھا۔اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔کھودنے کا یہ مطلب نہیں ہے وہ قبر کھودی جائے بلکہ وہاں جو ہمیں قبر نظر آتی ہے وہ مصنوعی حصہ ہے اصل قبر نیچے ہے۔یہ پرانا طریق ہے کہ اصل قبر سے آٹھ دس فٹ اوپر ایک کمرے میں اسی شکل کی ایک