خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 428
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۲۸ خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ کس غرض کے لئے محنت کی جاتی ہے۔آخر انسان کوئی کام کرتا ہے تو کوئی مقصود بھی سامنے ہونا چاہیے۔تو خدا تعالیٰ نے اس میں یہ بھی بتایا ہے کہ اُس نے انسان کے سامنے زندگی گزارنے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے کہ وہ کن اغراض کے لئے اپنی قوتوں اور استعدادوں کو استعمال کریں۔ان مقاصد کے لئے تیسرا اشارہ اس طرف ہے کہ محنت کرنے کی طاقتیں بھی ہیں اور مقاصد بھی ہمارے سامنے رکھے گئے ہیں یعنی جو خدا داد قو تیں اور استعدادیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو مقصد ہمارے سامنے رکھا ہے اس مقصد کے لئے جب ہم کوشش کریں گے تو حاصل کیا ہوگا ؟ ہمیں کیا ملے گا ؟ تو دنیا میں جو مقابلہ ہے اس میں ہر شخص کو انعام نہیں ملتا لیکن یہاں اعلان کرنے والی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اس لئے یہ بھی اشارہ کیا کہ جب تم ہماری قوتوں اور استعدادوں کو ہمارے بتائے ہوئے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کرو گے اور بہت محنت کرو گے تو تمہیں تمہاری قوتوں اور استعدادوں اور تمہاری محنتوں کا نتیجہ اور پھل اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت کی صورت میں ملے گا۔یہ ایسا مقابلہ ہے جس میں اول۔دوم سوم کو انعام نہیں ملتا۔ہر شخص اپنی نیت کے مطابق اور اپنی کوشش کے مطابق اور اپنی استعداد کے مطابق ثمرہ حاصل کرتا ہے اور پھل پاتا ہے۔پھر آگے اسی سورۃ میں بتایا ہے کہ ایک بات کا خیال رکھیں ! دنیا کے مقابلے میں بددیانتی بھی ہو سکتی ہے مثلاً ابھی یہاں بھی شور مچا ہوا ہے کہ اتھلیٹ ڈرگز (Drugs) استعمال کر رہے ہیں جس کے استعمال کرنے کی اجازت نہیں اور یہ کھیل کے میدان میں بددیانتی کے مترادف ہے۔اول اور دوم آنے کا مقابلہ ہے اور بددیانتی سے حصول انعام کی کوشش کی جارہی ہے۔تو اللہ تعالیٰ اسی سورۃ میں فرماتا ہے کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے اندرونے کو جاننے والا کوئی نہیں خدا تعالیٰ کی ذات سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں اس لئے بددیانتی کر کے خوشامدانہ طریقے پر لوگوں کو خوش کرنے کے لئے جو نیک اعمال بجالاؤ گے اس کا پھل تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ملے گا۔خدا کہے گا کہ جن کی خاطر تم نے یہ کوششیں کی ہیں اُن سے جا کر یہ انعام لینے کی کوشش کرو میرے گھر میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔پس" في كبد “ میں ان ساری باتوں کی طرف اشارہ ہوتا ہے یہاں کہا گیا ہے کہ رہین محنت ،