خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 429
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۲۹ خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء اسلام کی اصطلاح میں جو آخری چیز اس سلسلہ میں میں بتانا چاہتا ہوں ابتدائی تمہید میں وہ یہ ہے کہ مادی ذرائع سے جو تدبیر کی جاتی ہے صرف اسی کا نام محنت نہیں ہے یعنی اسلامی اصطلاح میں صرف اسی کو محنت نہیں کہتے۔دنیا میں تو اسی کو محنت کہتے ہیں مثلاً کھلاڑی ہیں وہ دوڑ وں میں آگے نکلنا چاہتے ہیں۔وہ ورزشیں کرتے ہیں۔ضرورت کے مطابق ان کو غذا دی جاتی ہے۔ان کے کوچ (Coach) خیال رکھتے ہیں کہ وہ وقت ضائع نہ کریں اور وقت کو ایسا خرچ کریں کہ جو دوڑ کی قابلیت ہے اس پر اثر انداز ہو وغیرہ وغیرہ۔یہ ساری امدادی تدبیریں ہیں جو وہ کر رہے ہوتے ہیں لیکن ہمیں اسلامی اصطلاح یہ بتاتی ہے کہ جب قرآن کریم یا جو اسلامی لٹریچر قرآن کریم کی تفسیر میں ہے وہ محنت کا ذکر کرے تو اس کے معنے دونوں کے ہیں یعنی مادی تد بیر بھی اور دعا بھی یعنی دونوں چیزیں علیحدہ علیحدہ نمایاں حیثیت رکھنے کے باوجود پھر بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔پس جب قرآن کریم نے کہا: - لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَد کہ انسان کو اس کی محنت کے مطابق پھل ملے گا تو اس میں یہ بھی بتایا کہ اس کی محنت میں محض پچھلی رات دو دو گھنٹے عبادت کرنا نہیں بلکہ نیک نیتی سے عبادت کرنا۔دوسروں پر رعب ڈالنے کے لئے یا دکھاوے کی عبادت نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ خدا کا ایک بندہ خدا تعالیٰ سے اس قسم کے تعلقات کو اس طرح چھپاتا ہے جس طرح میاں بیوی اپنے تعلقات کو چھپاتے ہیں اور اُن کو پر دے میں رکھتے ہیں اور کسی نے شاید لطیفہ ہی بنایا ہوگا کہ ایک شخص تھا وہ رات کے وقت بڑی آہ وزاری کیا کرتا تھا۔اس کا ایک مرید تھا اس نے ایک دن خیال کیا کہ میں بھی ان نوافل کی عبادت میں تضرع اور ابتہال میں شامل ہوں اور اپنے پیر کے ساتھ میں بھی نفل پڑھوں تو وہ مہمان ٹھہرا ہوا تھا۔اس نے سوچا کہ اگر کمرہ کا دروازہ بند ہوا تو مشکل ہے اگر کھلا ہوا تو کوشش کروں گا وہ تو نماز میں اتنے مشغول ہوں گے کہ ان کو پتا بھی نہیں لگنا کہ اُن کے ساتھ جا کر کوئی کھڑا ہو گیا ہے۔وہ دبے پاؤں چپ کر کے آیا۔دروازہ کھلا تھا۔کھول کر اندر دیکھا تو پیر صاحب تو خراٹے لے رہے تھے اور ٹیپ ریکارڈر گریہ وزاری کر رہا تھا۔پس یہ چالاکیاں دنیا میں چل سکتی ہیں مگر