خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 411
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۱۱ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۸ء کوئی اور چارہ کا ر نہیں ہوتا، اسی طرح انسان کا جسم جو اعمال بجالاتا ہے آزادانہ اعمال کے علاوہ یعنی وہ اعمال جو انسان اپنی مرضی سے بجالاتا ہے خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لئے یا ابا اور استکبار کی راہوں کو اختیار کر کے دونوں راستے اس کے لئے کھلے ہیں۔خدا تعالیٰ کے حکم کو تسلیم کرنے سے انسان کو جو جزا ملتی ہے اور اس کی روح کو ابدی جنتوں کا جو وعدہ دیا گیا ہے وہ بڑا زبر دست ہے پس ہر وقت ہی دعا کی ضرورت ہے لیکن قبولیت دعا کے سامان رمضان میں زیادہ اکٹھے کر دیئے گئے ہیں اس لئے یہ مضمون جو مستقل حیثیت رکھتا ہے اور بڑا اہم ہے وہ رمضان کے دوو ذکر کے ساتھ قرآن کریم میں بیان کر دیا گیا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر میرے بندے میرے متعلق پوچھیں یعنی قرب الہی کے حصول کا خیال آئے کہ وہ کس طرح اپنے رب سے تعلقات پیدا کر سکتے ہیں تو ان سے کہہ دو میں تم سے دور تو نہیں ہوں۔اُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۔میرے قُرب کی علامت اور نشان یہ ہے کہ میں دعاؤں کو سنتا ہوں اور دعا سننے کے بعد یہ اطلاع دیتا ہوں کہ میں نے دعا کو قبول کر لیا ہے۔اجیب میں محض اجابت یعنی قبول کرنا ہی نہیں بلکہ بسا اوقات اس کی اطلاع دینا بھی شامل ہوتا ہے۔یہ اطلاع یا تو عملاً ہوتی ہے اور یا لفظ بھی۔رؤیا اور کشوف کے ذریعہ یا الہام کے ذریعہ بھی ہوتی ہے۔دعا کرنے والے کے روحانی مقام اور ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ کا سلوک ہوتا ہے یہ لمبی تفصیل ہے اس میں اس وقت جانے کا وقت نہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں کی دعا کے نتیجہ میں پیار اور قبولیت کی کیفیت تب پیدا ہوگی جب وہ میر احکم مانیں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں گے اور میری نازل کردہ ہدایت پر قائم ہو جا ئیں گے تا کہ جس غرض کے لئے میں نے انسان کو پیدا کیا ہے وہ غرض پوری ہو۔دعا کے سلسلہ میں یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ ہر انسان دعا اپنے لئے بھی کرتا ہے اور دوسرے فرد کے لئے بھی کرتا ہے اس سلسلہ میں جیسا کہ پہلے اُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کے ترجمہ میں میں بتا چکا ہوں خدا تعالیٰ بتاتا بھی ہے انسان اپنے لئے بھی دعا کرتا ہے۔دوسرے فرد کے لئے بھی دعا کرتا ہے۔حدیث میں آتا ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں يَرٰی وَيُرى لَهُ