خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 354
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۵۴ خطبه جمعه ۲۴ / مارچ ۱۹۷۸ء ہے وہ خریدو اور اس کو استعمال کرو اور اس کو ضائع نہ کرو۔کچھ تو ضائع ہو جاتی ہے مثلاً روٹی ٹوٹ جاتی ہے تو بعض لوگ اسے باسی سمجھتے ہیں حالانکہ وہ باسی نہیں ہوتی۔پھر لاکھ آدمیوں کے لئے یا اسی ہزار آدمیوں کے لئے روٹی پکتی ہے اور اوپر نیچے پڑی رہنے کی وجہ سے اپنی بھاپ سے نرم ہو جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ کچی ہے حالانکہ اس کے بعض حصے کالے بھی ہوئے ہوتے ہیں لیکن انگلیوں کا اور زبان کا بھی احساس یہ ہوتا ہے کہ کچی ہے۔اب کوئی ترکیب دنیا سوچے گی تو سب سے پہلے انشاء اللہ ہم اس کو استعمال کر لیں گے۔بہر حال بہترین گندم سستے ترین زمانے میں خریدیں یہ برکت والی چیزیں ہیں لیکن خدا تعالیٰ کی برکت تو اس مال میں آئے گی نا جو آپ اس کے حضور پیش کریں گے اگر آپ اس کے حضور پیش ہی نہیں کریں گے تو وہ برکت کہاں جا کر اپنا ٹھکانہ بنائے گی۔پس جہاں تک دولت کا سوال ہے اور خدا کے مال کے خرچ کا سوال ہے خدا کا مال ہوگا تو تبھی مال کے خرچ میں برکت پیدا ہوگی۔اس سال کے ختم ہونے میں ایک مہینہ اور کچھ دن باقی رہ گئے ہیں اور نسبتی آمد خدا تعالیٰ کے فضل سے پچھلے سال کی نسبت بہت زیادہ فرق سے اچھی ہے لیکن یاد کرانا میری ذمہ داری ہے اور آپ پر کامل حسنِ ظن رکھنا بھی میری ذمہ داری ہے۔اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میری جماعت ہے، اس لئے میں آپ پر بدظنی نہیں کرتا اور نہ اس کی ضرورت ہے۔جماعت اتنی اچھی ہے کہ اس کو بس یا د کرانا ہی کافی ہے اور میں اپنے ثواب کی خاطر آپ کو یاد کر رہا ہوں کہ اس سال کی آمد کو سال کے ختم ہونے میں جو ایک مہینہ اور چند دن رہ گئے ہیں اس کے اندر پورا کریں تا کہ ہماری جواصل ذمہ داریاں ہیں ان کو ہم پورا کر سکیں یعنی کتابوں کی اشاعت ،مبلغوں کی تیاری ، بچوں کی تربیت ، بڑوں کے ریفریشر کورسز ، دار الضیافت اور ربوہ میں آنے والوں کی خدمت۔ربوہ کی فضا میں بھی بڑی برکت ہے۔دنیا دار کو تو یہ بات سمجھ نہیں آتی مگر سچی بات ہم نے یہی پائی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے کہ خدا کے بندوں کے جن دیواروں کو ہاتھ لگ جائیں خدا تعالیٰ ان میں بھی برکت رکھ دیتا ہے اور جو کپڑے وہ پہن لیں خدا تعالیٰ ان میں برکت رکھ دیتا ہے اور ربوہ جو جماعت کا مرکز ہے اس کی ہوا میں بھی برکت ہے، اس کی گلیوں میں بھی برکت ہے، اس کی