خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 334 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 334

خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۳۴ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء بھی بے انتہا ترقیات کر سکتا ہے لیکن انسان اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے اس پہلو کو بھول جاتا ہے۔بعض لوگ تو خدا ہی کے منکر ہو جاتے ہیں اور بعض خدا کے منکر تو نہیں ہوتے لیکن وہ اس بات سے انکار کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پیار کا تعلق قائم کرتا ہے۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس معنی میں انسانیت کے محسن اعظم ہیں کہ ایک تو آپ نے جس رنگ میں اور جس طور پر اور جس حد تک انسان کو دوسرے انسانوں کے ظلم سے بچایا ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت کی ہے، آپ سے پہلے کے انبیاء کی شریعتوں میں وہ چیز نظر نہیں آتی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے نتیجہ میں قرآن کریم کی شریعت کے دائرہ میں آکر انسان ہر قسم کے ظلم وستم اور استحصال سے بچ جاتا ہے اور اس کے حقوق پامال نہیں ہوتے۔یہ دنیوی لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بنی نوع انسان پر ایک عظیم احسان ہے اور اس احسان میں مومن اور کا فرسب شامل ہیں کیونکہ آپ نے جب حقوق انسانی کی حفاظت کی تو اس میں مومن اور کافر کا خیال نہیں رکھا بلکہ ہر انسان کے جو حقوق اللہ تعالیٰ نے قائم کئے تھے، ان کی حفاظت کا بیڑہ اٹھایا اور اپنی اُمت کو اس کی تعلیم اور ہدایت دی اور وصیت کی کہ ہر انسان کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔دوسرے آپ کا روحانی لحاظ سے احسان عظیم ہے۔آپ نے امت محمدیہ پر آسمانی رحمتوں اور فضلوں کے دروازے کھولے کہ اس سے قبل کسی نبی نے اپنی اُمت کے لئے خدا تعالیٰ کی رحمتوں کے وہ دروازے نہیں کھولے تھے۔ہمارا یہ اعلان کوئی جذباتی اعلان نہیں بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ ہماری عقل اس کی تائید کرتی ہے۔ہمارے پاس عقلی دلائل موجود ہیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی صداقت میں آسمانی نشانات نازل ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو یہ وعدہ دیا ہے کہ جو شخص تو حید الہی پر پورے طور پر اور حقیقی معنے میں قائم ہو جائے گا اور پھر استقامت سے اس راہ کو اختیار کرے گا اور اس کے پاؤں میں کوئی لغزش نہیں آئے گی۔تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ (حم السجدۃ: ۳۱) اس پر فرشتوں کا نزول ہوگا۔یہ ایک عظیم وعدہ ہے۔گویا قرآن عظیم نے قَالُوا رَبُّنَا اللهُ (حم السجدة : ۳۱)