خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 326
خطبه جمعه ۳ / مارچ ۱۹۷۸ء خطبات ناصر جلد ہفتم لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ( البقرة : ۲۸۷ ) کہ اس اعلان کے ذریعہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا گیا۔غرض خدا تعالیٰ کا پیار اُمت محمدیہ میں جس طرح پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کو ملتا رہا اسی طرح آج بھی مل رہا ہے اور قیامت تک ملتا رہے گا۔کوئی فلسفہ فلسفیانہ دلائل کے ذریعہ اور کوئی سائنس سائنسی تحقیق کے نتیجہ میں اور کوئی مذہبی خیال اپنے خیالات کی وجہ سے اس دروازے کو بند نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ نے اپنے پیار کا ایک بہت بڑا سمند ر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں نوع انسانی کے لئے ممکن بنادیا ہے۔پس اسے پانا ممکن ہے اور اگر ہم خود اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو کوئی ہمیں اس سے باز نہیں رکھ سکتا لا يَضُرُكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ (المآئدة : ۱۰۲) مگر یہ درست ہے کہ ہر انسان نے اپنے لئے کوشش کرنی ہے لیکن یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ کا پیار پہلے ملتا تھا اب نہیں مل سکتا یہ غلط ہے۔خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کی خاطر تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا اور اس وجہ سے کہ نوع انسانی خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی راتیں خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ چیخ و پکار میں گزریں، یہ دعائیں کرتے ہوئے کہ اے خدا! نوع انسانی پر رحم کر اور اپنے پیار کے دروازے پرکھول اور اس پیار کے حصول کے امکان کا اعلان فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : ٣٢) میں کیا گیا ہے اور پھر قرآن کریم نے اعلان کیا کہ ہمارا پیدا کرنے والا رب بے کس اور قدرتوں سے عاری نہیں بلکہ بڑی قدرتوں والا ہے اور وہ گونگا نہیں بلکہ بولتا ہے اور وہ اپنی صفات کے ہزار جلووں سے اپنے پیار کا اظہار کرتا ہے۔کسی انسان کا یہ خیال کرنا کہ انسان انسان سے پیار کرے تو وہ اپنے پیار کا اظہار کرتا ہے لیکن اگر خدا تعالیٰ کسی سے پیار کرے تو وہ خاموش بیٹھا ر ہے گا اور اپنے پیار کا اظہار نہیں کرے گا۔یہ بات ہماری سمجھ میں تو نہیں آتی۔جن کی سمجھ میں یہ غلط بات آتی ہو ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی سمجھ عطا کرے۔پس حقیقت یہ ہے کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر کے اپنی زندگی خوشیوں سے بھر سکتے ہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بھی کہا ہے اور یہ بھی آپ کا اُسوہ ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی یہ سمجھو کہ جنت کے دروازے خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں کھل سکتے۔اپنے زور سے ان پر