خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 308
خطبات ناصر جلد ہفتم ۳۰۸ خطبہ جمعہ ۲۳؍ دسمبر ۱۹۷۷ء اس کے حضور پیش کر دینا چاہتا ہے تجھے ایک ایسا موتی مل جائے گا جو انمول ہے، دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں۔پس ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے وصل اور لقاء سے محروم ہو تو تم خود ذمہ دار ہو کوئی اور اس کا ذمہ دار نہیں ہے کیونکہ کسی اور کو یہ طاقت نہیں دی گئی کہ وہ خدا کی محبت اور تمہارے درمیان حائل ہو سکے۔کسی کو یہ طاقت نہیں دی گئی کہ خدا تعالیٰ تم سے پیار کرنا چاہے اور وہ اس میں روک بن سکے۔خدا تعالیٰ سے دور لے جانے والی طاقتیں جو کچھ کرسکتی ہیں وہ یہی ہے کہ تمہاری کوشش کو کمزور کر دیں لیکن یہ تمہارا فرض ہے کہ تم اپنی کوشش کو کمزور نہ ہونے دو۔تم خدا تک پہنچنے کے لئے پورا زور لگاؤ۔خدا کی راہ میں قربانیاں دو اور اس کے دین کی خدمت کرو۔تم خدا کی مخلوق کے ساتھ خیر خواہی کا سلوک کرو۔بنی نوع انسان سے ہمدردی کرو۔ان کی خدمت کرو۔ان کے حقوق ان کو دو کہ یہ ایک بنیادی چیز ہے۔اگر تم اپنی طرف سے اپنے دائرہ استعداد کے اندر انتہائی کوشش کرو گے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں خدا تعالیٰ کے پیار سے محروم نہیں کر سکتی۔پس ایک طرف بشارت بڑی عظیم ہے مگر دوسری طرف ذمہ داری بھی بڑی عظیم ہے۔ہر فرد کی اپنی ذمہ داری ہے وہ کسی دوسرے پر الزام نہیں دھر سکتا کہ فلاں کی وجہ سے اسے خدا کا پیار نہیں ملا۔اگر اسے خدا کا پیار نہیں ملا تو اس کی کسی اپنی کوتاہی کی وجہ سے نہیں ملا کیونکہ خدا کے پیار اور اس کے پیار کے درمیان جیسا کہ میں نے کہا ہے کسی اور کی طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔خدا پیار کرنا چاہے اور غیر اللہ میں سے کوئی ہستی اس پیار میں روک بن جائے۔اس کا ئنات میں خدا نے انسان کو عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے اگر وہ خدا کا عبد بن جائے تو وہ ساری برکتیں اسے مل جاتی ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے اور اگر وہ ایسا نہ بنے یعنی عبادالرحمن میں شامل نہ ہو تو اس کا وہ خود ذمہ دار ہے کسی اور پر اس کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور نہ کی اور کو مجرم قرارد یا جا سکتا ہے۔اگر کسی کا جرم ہے تو اس نے نقصان اٹھانا ہے اور اگر کسی نے کچھ پانا ہے تو اس نے پانا ہے۔لا يَضُرُكُمْ مَنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمُ (المائدة : ١٠٦) ہدایت پر اس نے خود قائم رہنا ہے۔ساری دنیا بھی اگر خدا سے دور ہو جاتی ہے اور ایک فرد واحد خدا کے حضور روحانی رفعتوں کو حاصل کر رہا