خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 309
خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۲۳؍ دسمبر ۱۹۷۷ء ہے تو ساری دنیا کی دوری اس کے راستے میں حائل نہیں ہوسکتی۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی زندگی کو دیکھ لو دعویٰ نبوت سے پہلے بھی آپ خدا کے حضور جو گریہ وزاری اور عبادتیں کرتے رہے وہ بتاتی ہیں کہ اس وقت حقیقی معنے میں خدا تعالیٰ کا ایک ہی عبادت گزار بندہ تھا آپ کے سوا ساری دنیا غفلت میں پڑی ہوئی تھی۔کوئی تکبر میں پڑا ہوا تھا۔کوئی اباء اور استکبار ا میں پڑا ہوا تھا۔کوئی خدا کے خلاف بغاوت میں لگا ہوا تھا صرف وہی ایک بندہ تھا جو خدا کے حضور جھکا ہوا تھا۔پھر اس وقت جب کہ ہر انسان خدا سے دور تھا ، خدا نے اسی ایک بندے سے پیار کیا اور اتنا پیار کیا کہ کسی اور انسان کے حق میں نظر نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ نے اتنا پیار کیا ہو یا کسی اور انسان کو خدا تعالیٰ کا اتنا پیار ملا ہو یا خدا تعالیٰ کی طرف سے اتنی نعمتیں ملی ہوں یا اتنی عزت قائم ہوئی ہو جتنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی۔پس وہ جوا کیلا تھا کروڑوں کروڑ لوگ اس پر درود بھیجنے والے پیدا ہو گئے اور قیامت تک پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔غرض یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان خود اپنا ذمہ دار ہے۔کسی انسان کو خدا تعالیٰ کے پیار سے روکنے کی کوئی اور انسان طاقت نہیں رکھتا۔اسے اگر پیار ملتا ہے تو إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا فلقیہ کے مطابق ملتا ہے اور اگر وہ خدا کے پیار سے محروم رہتا ہے تو اس محرومی کی ذمہ داری اس کے اپنے نفس پر ہے کسی اور پر نہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میدان میں دنیا کے لئے جو اسوۂ حسنہ قائم کیا ہے ہم اسے پہچانیں اور اس پر عمل کریں تا کہ آپ کے روحانی فیوض ہمیں حاصل ہوں آپ کی برکت سے ہم بھی خدا کے پیار کو حاصل کرنے والے ہوں اور ہم اپنی کسی کمزوری یا غفلت کے نتیجہ میں دوری اور مہجوری کی راہوں کو اختیار کرنے والے نہ ہوں بلکہ قرب الہی کے راستوں پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والے ہوں۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۲۶ فروری ۱۹۷۸ ء صفحه ۲ تا ۴)