خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 270
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۷۰ خطبہ جمعہ ۴ رنومبر ۱۹۷۷ء اپنی ذات میں قائم ہے اور اپنی مخلوق کا سہارا ہے اور ان کی جان کی جان ہے۔یہ ساری کائنات ، یہ Universe (یونیورس)، یہ عالمین اللہ تعالیٰ کے سہارے سے قائم ہیں۔اگر ایک لحظہ کے لئے بھی خدا تعالیٰ کا سہارا اس عالمین کو اس کائنات کو حاصل نہ رہے تو لازمی طور پر ہلاکت اس کا نتیجہ ہوگا اور کچھ بھی باقی نہیں رہے گا اور جہاں تک انسان کا تعلق ہے خدا تعالیٰ نے انسان کو عقل اور سمجھ اور روحانی فراست عطا کی ہے اور اسے آزادی بھی دی ہے۔اسے یہ بھی کہا ہے کہ میرے ساتھ تعلق کے بغیر تم زندہ نہیں رہ سکتے اور میری قیومیت کے بغیر تم قائم نہیں رہ سکتے لیکن یہ بھی کہا کہ بعض باتوں میں تمہیں اجازت بھی دی جاتی ہے کہ چاہو تو میرے ساتھ تعلق پیدا کر کے اپنے قیام کا انتظام کرو اور چاہو تو مجھ سے جدا ہو کر اپنی ہلاکت کے سامان پیدا کرو۔اخلاقی میدان میں اور روحانی میدان میں اور جسمانی میدان میں بھی ایک حد تک اسے آزادی دی ہے مثلاً خود کشی کا تصور جسم کو ہلاک کر دینے کا تصور صرف انسان کے ساتھ وابستہ ہے۔دوسرے جاندار خودکشی نہیں کرتے یعنی اپنے ارادے سے اپنے مرنے کا فیصلہ نہیں کرتے ، یہ نہیں کہتے کہ اب ہم اپنے آپ کو مار دیتے ہیں صرف انسان کو یہ اجازت دی گئی ہے۔اسی لیے میں نے کہا ہے کہ جہاں تک اس کی جسمانی زندگی کا سوال ہے ایک حد تک اس کو آزادی دی گئی ہے لیکن جہاں تک اس کی روح کی بقا کا سوال ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت باقی رہے گی لیکن قابل فکر بات یہ ہے کہ وہ دوزخ میں کچھ عرصہ گزار کر یا شروع سے ہی خدا کی جنتوں میں داخل ہو کر باقی رہے گی۔غرض خدا تعالیٰ اس کائنات کا قیوم ہے اس کے سہارے کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی اور ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ اس کے سہارے کو ڈھونڈیں۔فرمایا نَبِی عِبادِی انّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الحجر :۵۰) لوگوں کو یہ بتا دو کہ میں غفور اور رحیم ہوں اور دوسری جگہ فرمایا وَ إِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ اللهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمُ (النحل : ۱۹) غفور اور رحیم جو دوصفات باری ہیں اس آیت میں ان کی تفسیر کی ہے کہ خدا تعالیٰ نے تم پر نعمتوں کی انتہا کر دی ہے۔بے شمار نعمتیں تمہارے لئے پیدا کی ہیں لیکن جب تک تم خود ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرو گے ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اور تم اپنے زور سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تمہاری کوششیں اور تمہاری تدبیریں بے نتیجہ ہیں جب تک