خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 260 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 260

خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۶۰ خطبہ جمعہ ۲۸/اکتوبر ۱۹۷۷ء ہے إما شاكرا و اما كَفُورًا اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ میری ہدایت کے مطابق عمل کرو اور انعام پاؤ یا اطاعت نہ کرو۔نافرمانی کرو اور ناشکرے بن جاؤ اور خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے نعماء کے حصول کے جو سامان پیدا کئے تھے ان کی طرف تم توجہ نہ کرو اور اس کے نتیجہ میں محرومی، مہجوری اور خدا سے دوری کی زندگی گزارو۔الہی جماعتیں شکر گزار بندوں پر مشتمل ہوتی ہیں اور یہ جو تدریج کا اصول ہے اس سے وہ اچھی طرح واقف ہوتی ہیں۔چنانچہ دیکھ لیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آہستہ آہستہ ترقی ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ نے مسلمانوں کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی رفعتوں تک پہنچا دیا تھا۔وعدہ تو ان کو یہ دیا گیا تھا کہ جب تم میں سے خدا کا کوئی بندہ تواضع اور انکساری کی راہوں کو اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو ساتویں آسمان تک پہنچا دے گا یعنی اُمت محمدیہ کو انتہائی بلندیوں تک پہنچنے کا وعدہ دیا گیا ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے انتہائی ترقی کی لیکن اس میں تدریج کا اصول کارفرما رہا۔تدریج کے اصول میں ہر دوسرا دور پہلے سے زیادہ بڑا بھی ہوتا ہے اور بڑا کٹھن اور مشکل بھی ہوتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کو دیکھ لیں۔اپنی بعثت کے ابتدائی ایام میں آپ خود بھی اپنے صحابہ کے ساتھ چھپ چھپ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے۔یہ کمزوری کا زمانہ ہے پھر ترقی ہوئی اور مسلمانوں نے کھل کر نمازیں پڑھنی شروع کیں۔گو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تو نہایت بلند تھا لیکن آپ اپنے صحابہ کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتے تھے حالانکہ آپ تو اس وقت بھی خانہ کعبہ میں جا کر نمازیں ادا کر لیتے تھے لیکن جہاں تک باجماعت نماز کا تعلق ہے صحابہ کی روحانی نشوونما میں ابھی اتنی طاقت نہیں پیدا ہوئی تھی کہ وہ کھل کر نماز پڑھتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا یہ تھا کہ وہ اپنے صحابہ کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں اس لئے آپ بھی ان کے ساتھ نماز با جماعت چھپ کر پڑھتے تھے۔پھر ایک زمانہ ایسا تھا جس میں نماز فرض ہی نہیں تھی۔پھر ایسا زمانہ تھا جس میں روزے ابھی فرض ہی نہیں تھے۔پھر ایک ایسا زمانہ تھا جس میں زکوۃ فرض ہی نہیں تھی۔پھر ایک ایسا زمانہ تھا جس میں شراب حرام ہی نہیں تھی مگر جب آہستہ آہستہ مسلمان نماز پڑھنے ، روزے رکھنے اور زکوۃ دینے