خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 218
خطبات ناصر جلد ہفتم ۲۱۸ خطبہ جمعہ کے را کتوبر۱۹۷۷ ء الْحَمدُ لِلَّهِ (الفاتحة : ۲) اور اللہ وہ ذات ہے جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہے فرمایا کہ الْأَسْمَاءِ الْحُسْتَى (طه: 9) اور اللہ وہ ذات ہے جو تمام فیوض کا مبدا ہے فرما یا رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُل شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) کسی کی تعریف اس کی خوبی کی بنا پر کی جاتی ہے یا اس کے احسان کی بنا پر کی جاتی ہے۔اللہ تمام صفات حسنہ اور اچھے اوصاف کا مالک ہے اور حقیقتا وہی اس کا مستحق ہے۔ان اوصاف کی کچھ جھلکیاں تشبیہی طور پر انسان کو بھی ملیں۔بعض جگہ دوسروں میں بھی اس کا پر تو نظر آتا ہے لیکن حقیقی طور پر الأَسْمَاءُ الْحُسْنٰی کا سزاوار اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور وہی سب تعریفوں کا مستحق ہے اور اسی طرح خدا تعالیٰ کی ذات پاک اور قدوس ہے۔وہ تمام رذائل اور عیوب اور نقائص س منزہ ہے۔اس کی تمام صفات اس کی ذات کے مناسب حال ہیں۔اللہ تعالیٰ کی جو عظمت اور جلال اور کبریائی ہے اس کے مناسب حال تمام صفات حسنہ اس کے اندر پائی جاتی ہیں۔اس کی ذات اور صفات میں کوئی تضاد نہیں۔( یہ ایک بار یک فلسفیانہ مسئلہ ہے میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔غرض خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔جس طرح وہ کامل ہے اسی طرح اس کی صفات بھی کامل ہیں اور جس طرح اس کی ذات میں کوئی شریک نہیں اسی طرح اس کی صفات میں بھی کوئی شریک نہیں۔پھر اسلام نے ہمیں یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ازلی ابدی ہے۔ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔میں یہ بتادوں کہ زمانہ کے متعلق جب ہم کوئی لفظ استعمال کرتے ہیں یا کوئی بات کرتے ہیں تو ہم اپنے قائم کردہ معیار کے مطابق بات کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ ازلی ابدی ہے اور وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔فرمایا يَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَالِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن: ۲۸) اللہ تعالیٰ پر کبھی موت اور فن طاری نہیں ہو سکتی اور ایسے ہی ادنی درجہ کا نعطل حواس بھی اس کے لئے جائز نہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب طلباء کلاس میں بیٹھے ہوتے ہیں تو اگر کسی طالب علم کا دماغ تھکا ہوا ہو یا وہ لا پرواہ ہو تو اگر ایک لمحہ کے لئے اس کی توجہ اپنے استاد کی باتیں سننے سے ہٹ جائے تو پھر اسے یہ پتہ نہیں لگتا کہ استاد کیا کہہ رہا ہے مگر اللہ تعالیٰ تعطل حواس کے نقص سے منزہ ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات میں ایک لمحہ کے ہزارویں حصہ میں تعطل حواس نہیں پایا جاتا۔یہ ممکن ہی