خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 8
خطبات ناصر جلد ہفتم Δ خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۷۷ء وقف جدید کا سارا کام چلانے کے لئے پیسے کی بھی ضرورت ہے، تاہم پیسے کی اہمیت سب سے آخر میں ہے۔اصل تو وہ دل ہے جس کے اندر خدا تعالیٰ کا پیار اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت شعلہ زن ہے۔کئی دفعہ غیر پوچھتے ہیں کہ آپ کو اتنے پیسے کہاں سے آجاتے ہیں؟ میں اُن کو جواب دیا کرتا ہوں کہ ہماری دولت سکہ اور روپیہ وغیرہ نہیں ہے ہماری دولت تو وہ دل ہیں ، وہ مخلص دل جو منور سینوں کے اندر دھڑک رہے ہیں۔پھر کسی اور جگہ ہمیں جانے کی ضرورت نہیں خدا کے در پر جانے کی ضرورت ہے۔ہمارے لئے ایک ہی در ہے۔خدا کرے کہ یہ منور سینے ہمیشہ جماعت کے اندر رہیں اور ان میں دھڑ کنے والے دل ہمیشہ ہی مخلص اور ایثار پیشہ دل بنے رہیں۔غرض وقف جدید کے بجٹ میں بڑی تھوڑی رقم ہوتی ہے۔جماعت یہ کوشش کرے کہ ان کی ضرورت پوری ہوتا کہ جو جماعت کی ضرورت ہے وہ پوری ہوا اور ضرورت کے احساس اور ذمہ داریوں کے فقدان کے نتیجہ میں جو خرابی پیدا ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے بچائے اور محفوظ ر کھے۔اس سلسلہ میں صرف وقف جدید نہیں بلکہ ساری جماعت کا یہ کام ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے رسائل شائع کرے۔اول تو یہ ضروری ہے کہ ہمارے ہر بچے کو پڑھنا آتا ہو۔اُردو کی عبارت پڑھنی آتی ہو۔ویسے ہمارے بہت سے ایسے احمدی دوست ہیں جو اپنے دستخط بھی نہیں کر سکتے لیکن ہیں وہ عالم۔اس لئے دوسری چیز ” پڑھنا آتا ہو کے ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ ”سننا بھی آتا ہو" یعنی دین کی باتیں سننے کا شوق پیدا ہو اور سنانے والے بھی موجود ہوں۔مثلاً جو دوست ہماری مساجد میں خطبہ جمعہ سنتے رہتے ہیں ان کا علم دوسروں کی نسبت بہت بڑھ جاتا ہے کیونکہ مختلف مسائل کے متعلق باتیں ہوتی رہتی ہیں۔پس بنیادی باتوں کے متعلق جو رسائل ہیں وہ بچوں کے ہاتھوں میں دیئے جائیں۔ایسے رسائل کا کثرت سے شائع ہونا بھی بڑا ضروری ہے۔ایک تو بنیادی علمی باتیں ہیں یا آئندہ کی خبریں ہیں یا روحانیت کے بلند مقام تک پہنچانے کے لئے جو کوشش ہے وہ تو اپنی جگہ بہت ضروری ہے مگر وہ تو انتہا ہے اور انتہا بہر حال بلند بھی ہے اور اہم بھی ہے ابتدا سے۔لیکن اگر ابتدا ہی نہیں تو انتہا کا تصور ہی نہیں ہوسکتا۔ابتدا سے دینی تعلیم کا خیال رکھنا