خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 7
خطبات ناصر جلد ہفتہ خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۷۷ء اس زمانے میں اسلام کے اندر احمدیت قائم ہوئی ہے۔اسلام کی تعلیم کو پھیلانے کے لئے انسان نے جو کام کرنا ہے وہ تو انسان ہی نے کرنا ہے۔جو کام ایک جذ بہ رکھنے والے اور ایثار پیشہ اور خدا اور رسول سے محبت رکھنے والے دل نے کرنا ہے وہ تو ایسے دل نے ہی کام کرنا ہے۔جس کام کے لئے تعلیم کی ضرورت ہے، واقفیت کی ضرورت ہے وہ کام تعلیم اور واقفیت کے علاوہ ہو ہی نہیں سکتا اس کے لئے تو علم پھیلا نا پڑے گا۔اعتقادات بتانے پڑیں گے۔بعض ایسی باتیں ہیں جن کا حافظہ کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اور ان میں سے ایک نماز جنازہ ہے۔زندگی اور موت انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اس لئے ہر جگہ ایسے آدمی ہونے چاہئیں جو نماز جنازہ پڑھاسکیں۔ہماری جماعت میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس قسم کی تعلیم کافی ہے لیکن جماعت سے باہر دنیا میں مسلمان پھیلے ہوئے ہیں۔بعض دفعہ یہ اطلاع بھی آجاتی ہے کہ ایک آبادی کا جو معلم یا ملا ہے اُسے نماز جنازہ کے الفاظ کا بھی پتہ نہیں۔یا نکاح کے لئے آیات ہیں کیونکہ ایک دوست نے بتایا کہ ایک جگہ ایک مولوی صاحب تھے ان کو نماز جنازہ میں جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ آتی تھی تو انہوں نے وہی دعا جو جنازہ میں پڑھی جاتی ہے پڑھ کر اعلان نکاح کر دیا۔غرض جو نکاح کے وقت پڑھنا چاہیے اس کا بھی پتہ نہیں تھا۔اس لئے اگر ہم نے جگ ہنسائی نہیں کروانی جس طرح اس وقت بہتوں کے چہرے پر ہنسی آگئی ہے کیونکہ بات ہی ایسی ہے، تو ہمیں یہ بات سوچنی پڑے گی اور اس قسم کی بنیادی باتیں یاد کرنی پڑیں گی۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ سود و سو سال کے بعد ہمارے متعلق بھی اس قسم کی باتیں مشہور ہونے لگ جائیں۔بعض چیزیں ہر وقت ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہیں اُن سے متعلقہ مسائل یاد ہونے چاہئیں۔مثلاً نکاح ہے، ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے صحت اور عمر دے تو اس کو یہ تجربہ بھی کرنا پڑتا ہے اور ایسے لوگ چاہئیں جو نکاح کے اعلان کے وقت اور اس جوڑ کے وقت جو بڑا اہم بھی ہے اور بڑا نازک بھی ہے دعاؤں کے ساتھ یہ اعلان کریں کہ یہ جوڑ قائم ہو گیا ہے لیکن اگر اعلان کرنے والے اس کی اہمیت ہی نہ سمجھیں اور اس مسئلہ ہی کو نہ جانیں تو پھر بہت سی برکات اور دعاؤں سے ایسے لوگ محروم ہو جا ئیں گے۔یہ تو ہم پسند نہیں کرتے۔