خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 6
خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۷۷ء گاؤں یا قصبہ یا آبادی میں جا کر دوستوں کے کم سے کم دینی معیار کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے معلم بھی اور شاہد بھی۔ان میں بہت اچھے بھی ہیں ، اچھے بھی ہیں اور بالکل نچلے درجے کے بھی ہیں۔بعض کو فارغ بھی کرنا پڑتا ہے لیکن اُن کی بڑی مانگ ہے جس کا مطلب ہے کہ جماعت میں ضرورت کا احساس ہے کہ انہیں معلم چاہیے۔جماعت میں ضرورت کا احساس موجود ہے کہ انہیں شاہد مبلغ چاہیے لیکن ضرورت کے اس احساس کے مطابق جتنا احساس ذمہ داری ہونا چاہیے وہ جماعت میں نہیں ہے۔نہ شاہد کے لئے جامعہ احمدیہ میں اُتنے میٹرک پاس نوجوان آتے ہیں کہ وہ ہماری ضرورت پوری کر دیں اور نہ وقف جدید کو اتنے معلم ملتے ہیں کہ وقف جدید جو کام کر رہی ہے یعنی یہ کہ جو کم سے کم معیار ہے قوم کو اس سے نیچے نہ گرنے دیا جائے اس ضرورت کو پورا کر دیں اور جو انہی کا کام ایک اور رنگ میں کرنے والے رضا کار معلم ہیں اُن کے بارہ میں بھی ذمہ داری کا احساس نہیں۔میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت اس طرف توجہ کرے تو ایک وقت میں سینکڑوں رضا کار معلم یہاں آجائیں۔اس طرف جماعت کو توجہ کرنی چاہیے ہر گاؤں اور ہر آبادی سے آنے چاہئیں۔شہروں کو نسبتا زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن ہمارے عام دیہات جو ہیں اُن میں سے ایک یا دو آدمی آجائیں۔ایک وقت میں ایک آجائے پھر دو ہو جائیں پھر تین ہو جائیں۔پانچ دس ایسے ہوں جن کو دینِ اسلام کے بنیادی اعتقادات اور ابتدائی اصول از بر یاد ہوں۔کچھ احادیث ان کو یاد ہوں۔قرآن کریم کے کچھ حصے ان کو یاد ہوں جو اخلاقی مسائل ہیں وہ اُن کو یاد ہوں اور ایک دو سال کے بعد پھر وہ دو تین مہینے کے لئے آجا ئیں تا کہ اُن کا علمی معیار اور بلند ہو جائے۔جماعت کو جہاں ضرورت کا احساس ہے وہاں جماعت کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ وہ اس کے مطابق اپنے اندر ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کریں تا کہ ان کی ضرورت پوری ہو جائے۔اگر ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا نہ ہو تو ضرورت کیسے پوری ہو جائے گی۔مرکز کی طرف سے آٹے کے مجسمے بنا کر اُن کے پاس نہیں بھجوائے جاسکتے اور نہ پتھر کے بت اس کام کے لئے تراشے جاسکتے ہیں۔بتوں کو اور غیر اللہ کے جو دوسرے مظاہر ہیں کسی رنگ میں لکڑی کے یا بتوں کے یا تو ہمات کے ، ان کو توڑنے کے لئے اور اُن کو جلانے کے لئے اسلام آیا اور اب