خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 176 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 176

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۲؍ستمبر ۱۹۷۷ء کئے اور خدا تعالیٰ کی عطا کا غلط استعمال کیا اس سے فساد اور ظلم پیدا ہو گیا۔مثلاً ایٹم بم ہے۔یہ ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کی بھلائی میں بھی خرچ ہو سکتی ہے۔ایک دہر یہ انسان بھی یہ کہتا ہے کہ سائنس کے لحاظ سے یہ ممکن ہے کہ انسان کی بھلائی کے لئے اسے خرچ کیا جائے اور ہونا بھی ایسے ہی چاہیے لیکن انسان کا دماغ بہک گیا اور عملاً کچھ فائدے اٹھائے اور بہت سارے نقصانات کے سامان پیدا کر دیئے اور بر و بحر میں اس کی وجہ سے ایک فساد پیدا ہو گیا۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دنیا میں جو چیزیں پیدا کی گئی ہیں ان کے صحیح استعمال کے لئے اسلام میں راہنمائی موجود ہے اگر میرے عطایا سے پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اسلام پر پورا عمل کرنا ہو گا۔عقل بھی یہی کہتی ہے کہ جو پوراعمل نہیں کرتا وہ پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔مثلاً جوشخص پانی سے پورا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے وہ اپنی پیاس بجھانے کے لئے ایک گھونٹ پر اکتفا نہیں کرسکتا اس کو اپنی پیاس بجھانے کے لئے پورا ( کافی ) پانی استعمال کرنا پڑتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم دنیا کی چیزوں سے پورا فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اسلام پر پورا پورا عمل کرو۔اگر تم پورا پورا عمل نہیں کرو گے اور وہ طریق اختیار نہیں کرو گے جو اسلام نے تمہیں بتایا ہے تو پھر تم پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔اسلام پر پورا عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی طاقتوں اور قوتوں اور استعدادوں کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیں اور کہیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہمیں جو قو تیں اور صلاحیتیں دی ہیں ہم تیری منشا کے مطابق اور تیری تعلیم کی روشنی میں اور اسلام جونور دنیا کی طرف لے کر آیا ہے اس نور تلے چل کر ان کی نشو و نما کریں گے اور اس سے باہر نہیں جائیں گے۔غرض اسلام کو پورے طور پر سمجھنا اور اس پر عمل کرنا حصول مقصد کے لئے اور ہماری جو قو تیں اور استعدادیں ہیں ان کی کمال نشو ونما کے لئے ضروری ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، اسلام کے متعلق فرماتے ہیں:۔اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اپنی گردن خدا کے آگے قربانی کے بکرے کی طرح رکھ دینا اور اپنے تمام ارادوں سے کھوئے جانا اور خدا کے ارادہ اور رضا میں محو ہو جانا اور خدا میں گم ہو کر ایک موت اپنے پر وارد کر لینا اور اس کی محبت ذاتی سے پورا رنگ حاصل کر کے