خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 175
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۷۵ خطبہ جمعہ ۲ ستمبر ۱۹۷۷ء بنائی گئی اس غرض کے لئے وہ اس کا استعمال نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء جو انسان کی احتیا جوں کو پورا کرنے کے لئے پیدا کی گئی تھیں ان کا بے محل اور غلط استعمال کرنے لگ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو جہاں طاقتیں دیں وہاں ان طاقتوں کی نشوونما کا اصول بھی بتایا اور نہ ختم ہونے والی ترقیات کے دروازے انسان پر کھولے گئے ہیں کیونکہ اس زندگی کے بعد ایک ایسی زندگی عطا کی جانے والی ہے جو ختم نہیں ہوتی اور وہاں بھی ترقیات ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ ہر روز مومن جنت میں پہلے مقام سے بالا تر مقام پر ہو گا۔غرض دنیا میں جو چیزیں پیدا کی گئی ہیں ان کے صحیح استعمال کے لئے ہدایت بھی ملنی چاہیے تھی۔یہ پہلو تو خالی نہیں رہ سکتا تھا اس لئے خدا نے اصول مقرر کر دیئے۔پس خدا تعالیٰ نے انسان کی احتیاج کو پورا کرنے کے لئے بے شمار چیزیں پیدا کیں۔خدا نے ہر شخص کی ضرورت پوری کر دی۔کوئی ایسی ضرورت باقی نہیں رہی کہ جس کے متعلق بندہ یہ کہے کہ اے خدا! تو نے میری جسمانی یا ذہنی یا اخلاقی یا روحانی نشو ونما کے لئے میری یہ خواہش یا یہ Urge (ارج) یا یہ احتیاج یا یہ ضرورت تھی اس کو پورا کرنے کے لئے کوئی سامان نہیں پیدا کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اپنی سعی سے کچھ نہیں کر سکتا اسے آسمانی ہدایت کی ضرورت ہے اور اب انسان کو جب کہ وہ اپنے کمال تک پہنچنے کے قریب پہنچا ہوا تھا اسلام میں کامل ہدایت ملی ہے۔اسلام ایک زبر دست مذہب ہے، ایک کامل شریعت ہے اور ایک زبر دست تعلیم ہے۔اسلام نے تمام چیزوں کے صحیح استعمال کے لئے انسان کو ہدایت دی ہے کہ اس طرح عمل کرو گے اور اشیاء کو اس طرح استعمال کرو گے تب تم صحیح طریقے پر فائدہ اٹھا سکو گے ورنہ ضرورت اپنی جگہ پر رہے گی ضرورت کے پورا کرنے کے سامان اپنی جگہ پر رہیں گے لیکن تم اپنی نالائقیوں کی وجہ سے پھر بھی اپنی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکو گے اور دنیا میں فساد پیدا کرو گے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (الروم : ۴۲) کہ جو انسان کے ہاتھوں نے غلط اور ناجائز طور پر کما یا اور گناہ