خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 5
خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۷ /جنوری ۱۹۷۷ء بدعات بھی آہستہ آہستہ واپس اُن کے اندر لوٹ آئیں اس لئے مثلاً افریقہ کی تاریخ ہے جسے دنیا نے تو یہ کہا کہ یہ ظلمات میں گھرا ہوا خطہ ارض ہے مگر وہاں مسلمانوں کے اندر کچھ اس قسم کے نور نظر آتے ہیں کہ اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ وہاں بھی مجددین اور اولیاء اللہ پیدا ہوئے مثلاً حضرت عثمان فودیؒ جن کا میں نے پہلے بھی کئی دفعہ ذکر کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے قریباً سو سال پہلے ان کا زمانہ ہے۔انہوں نے اعلان ہی یہ کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ اپنے علاقے سے اُن بدعات کو دور کر دیں جنہوں نے اسلام کے چہرے کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔اُن کو تکالیف بھی برداشت کرنی پڑیں۔اُن کو لڑائیاں بھی لڑنی پڑیں۔اُن کو ہلاک کرنے کے منصوبے بھی بنائے گئے لیکن جس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خاص علاقے کا مجدد بنایا تھا اس میں وہ کامیاب ہوئے اور بدعات کو دُور کر دیا لیکن ایک عرصہ گزرنے کے بعد پھر ان کے ماننے والوں میں بھی دوسری قسم کی بدعات پیدا ہوگئیں۔ایک وقت آئے گا انشاء اللہ جب لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں علم رکھنے والے بھی اور صراط مستقیم پر مضبوطی سے قائم رہنے والے بھی جماعت احمدیہ میں پیدا ہوں گے اور جوں جوں جماعت میں وسعت پیدا ہوتی جائے گی وہ کام کو سنبھالتے چلے جائیں گے لیکن اس وقت ہمارے شاہدین بھی ضرورت سے کم ہیں اور وقف جدید کے معلمین بھی تعداد سے کم ہیں اس لئے گزشتہ سال میں نے رضا کار معلمین کی ایک تحریک کی تھی۔میں اس کام کے لئے اعزازی معلمین کی اصطلاح پسند نہیں کرتا ( ممکن ہے میری زبان سے غلطی سے نکل گیا ہو بہر حال مجھے یاد نہیں رہا) میری مراد رضا کار معلم ہیں یعنی وہ جو وقف جدید کے معلم ہیں جنہیں تھوڑا بہت معاوضہ بھی ملتا ہے اور وہ وقف جدید کے انتظام کے ماتحت کام کر رہے ہیں اُن کے علاوہ رضا کار معلمین کی ضرورت ہے۔وقف جدید کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ان کی تحریک کی گئی تھی لیکن جماعت کو اس کام کی اہمیت بتانے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ وہ منصوبہ یہ ہے کہ ہر گاؤں اور قصبہ اور آبادی کے کچھ لوگ یہاں مرکز میں آکر ٹھہریں اور چند ماہ میں اُن کو کچھ بنیادی باتیں بتائی جائیں اور چونکہ سارا دن انہوں نے یہی کام کرنا ہے اس لئے کچھ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا سہولت کے ساتھ مطالعہ کریں اور پھر وہ اپنے اپنے