خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 174 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 174

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۷۴ خطبہ جمعہ ۲ ستمبر ۱۹۷۷ء حاجت جو وہ زبان حال سے سوال کر رہی ہے وہ پوری کر دی گئی ہے تا کہ اسے جو طاقتیں عطا کی گئی ہیں ان کی صحیح نشوونما ہو سکے۔قرآن کریم نے جو نتیجہ نکالا ہے ہماری عقل بھی وہی نتیجہ نکالتی ہے اور وہ یہ ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم میرے احسان گننا چاہو تو تم نہیں گن سکتے۔اب تم خود سوچ لو کہ بچپن سے لے کر مرتے دم تک اور پھر اس کے بعد کی زندگی میں بھی خدا تعالیٰ کے بے شمار احسان ہیں جو انسان پر بارش کی طرح نازل ہوتے رہتے ہیں لیکن اس دنیا کی زندگی کو لے لیتے ہیں۔انسان کی صحیح ضرورت اور احتیاج کو پورا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے سامان پیدا کر رکھے ہیں یعنی جو انسانی خواہش ہے یا زبان حال کا سوال ہے اور جس چیز کا انسان کی فطرت تقاضا کر رہی ہوتی ہے اور جو انسان کی نشو ونما کے لئے ضروری ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے پیدا کرنے کے سامان کر رکھے ہیں۔یہ بڑا وسیع مضمون ہے اور بڑا زبردست مضمون ہے۔اس کے اندر اسلام کی برتری کا معجزا نہ ثبوت ہے کہ جو چیز تم مانگتے ہو، جس چیز کی بھی تمہیں سچی حاجت اور ضرورت ہے خدا تعالیٰ نے وہ چیز تمہارے لئے پیدا کر دی ہے۔میں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا صرف اتنا بتانا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے کہ انسان کو چار بنیادی قوتیں اور استعداد میں اور صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ہر قوت کی بنیادی طور پر بے شمار احتیا جیں اور ضرورتیں ہیں اور ہر ضرورت زبان حال سے اپنے رب سے تقاضا کرتی ہے کہ اسے فلاں مرحلے پر فلاں چیز کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو چیز اسے چاہیے وہ میں نے پیدا کر دی ہے یہ ہے عظمت ہمارے ربّ کریم کی۔پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میرے احسانوں کو گن نہیں سکتے۔مگر اس کے باوجود ناشکرے انسان کی یہ حالت ہے کہ جو چیز جس غرض کے لئے پیدا کی گئی وہاں استعمال کرنے کی بجائے اس کا غلط استعمال کرتا ہے یعنی وَضْعُ الشَّيْءِ فِي غَيْرِ مَحِلَّهِ ( يَا فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ ) ظلم کے معنے ہی یہ ہیں کہ کسی چیز کا غلط استعمال کیا جائے۔کسی چیز کا جو محل ہے اس جگہ کی بجائے کسی اور جگہ پر غلط استعمال ظلم ہے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو قو تیں اور استعداد یں دیں اور ان کو پورا کرنے کے سامان دیئے وہ ان کو چھوڑ دیتا ہے اور ظلم کرنے لگ جاتا ہے یعنی ایک چیز جس غرض کے لئے