خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 171 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 171

خطبات ناصر جلد ہفتہ خطبہ جمعہ ۲ ستمبر ۱۹۷۷ء کئی دفعہ بتا چکا ہوں کہ قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو بنیادی طور پر چار قسم کی طاقتیں دی گئی ہیں۔جسمانی طاقتیں ہیں جو دنیا والوں کی زندگی میں نمایاں ہوتی ہیں مثلاً مکہ بازی میں، باکسنگ میں کشتی میں یا مختلف دوسری کھیلوں میں یا زور آزمائی میں پاکشتی رانی میں وغیرہ وغیرہ۔جسمانی طاقتوں کے ہزار مظاہرے ہیں۔جسمانی طاقتیں جوصحابہ رضوان اللہ علیہم کی زندگیوں میں ظاہر ہوئیں وہ عجیب طاقت کا مظاہرہ تھا۔اس زمانے میں کسرای اور قیصر کی جو بڑی بادشاہتیں تھیں ان کے مقابلہ میں مٹھی بھر مسلمانوں کولڑنا پڑا حالانکہ دشمنان اسلام کے پاس دنیا کی دولتیں تھیں اور کھانے کی ہر قسم کی اشیاء ان کو میٹر تھیں لیکن اس کے باوجودمسلمانوں نے جس جسمانی طاقت کا مظاہرہ کیا ( میں جسمانی طاقت کی بات کر رہا ہوں ) وہ نہ کسریٰ کی فوجوں نے کیا اور نہ قیصر کی فوجوں نے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں کسری کے خلاف جنگ میں چودہ ہزار فوج کا کبھی اسی ہزار کی فوج سے مقابلہ ہوتا تھا اور کبھی ایک لاکھ سے۔ایک لاکھ فوج جب مقابلہ میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کی تعداد اوسطاً پانچ چھ گنا زیادہ تھی اگر دن میں نو گھنٹے لڑائی ہوئی ہو تو اس کا مطلب ہے ہر ڈیڑھ گھنٹے کے بعد مسلمان فوج کے سامنے ایرانیوں کی تازہ دم فوج مقابلہ پر آگئی کیونکہ تلواروں کی لڑائی ہوتی تھی۔ایک کے مقابلے میں ایک ہی آدمی آتا تھا چنانچہ ایرانی اپنی اگلی صفوں کو پیچھے ہٹالے جاتے تھے اور تازہ دم فوج آگے لے آتے تھے۔پھر ڈیڑھ گھنٹے بعد ان صفوں کو پیچھے ہٹالے جاتے تھے اور تازہ دم فوج آگے آجاتی تھیں۔غرض مسلمانوں کے مقابلہ میں دشمن کی تعداد پانچ چھ گنا زیادہ تھی۔کم و بیش نو گھنٹے روزانہ کی جنگ میں پانچ چھ دفعہ کسری کی فوجوں کی اگلی صفیں پیچھے ہٹ جاتی تھیں اور تازہ دم فوج آگے آجاتی تھی پھر اگلی صفیں پیچھے ہٹ جاتی تھیں اور ان کی جگہ تازہ دم فوج لے لیتی تھی یعنی ان کا کوئی سپاہی ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ نہیں لڑتا تھا اور مسلمان نو گھنٹے تک لڑ رہا ہوتا تھا گویا وہ پانچ چھ گنا زیادہ جسمانی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہوتا تھا۔اگر کوئی شخص ایک سوٹی لے کر اسے ہلا نا شروع کر دے تو آدھے گھنٹے کے بعد اس کا بازوشل ہو جائے گالیکن وہاں مسلمانوں کی ذات اور ذاتی زندگی کا سوال نہیں تھا بلکہ اسلام کی زندگی کا سوال تھا، اسلام کے استحکام کا سوال