خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 170 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 170

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۷۰ خطبہ جمعہ ۲؍ستمبر ۱۹۷۷ء زندگی کا قیام ہوتا ہے اور روشنی سے ترقیات کے دروازے کھلتے ہیں، پھر اس مضمون پر قرآن کریم نے مختلف جگہوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی مگر اس تفصیل میں تو میں اس وقت نہیں جاؤں گا۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے آسمان اور زمین کو تمہارے لئے پیدا کیا ہے اور اس میں پانی پیدا کیا ہے جس سے پھل پیدا ہوتے ہیں جس میں اور بہت سے فوائد ہیں جو انسان اٹھاتا ہے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا، نور کو پیدا کیا ، روشنی کو پیدا کیا ، دن کو پیدا کیا اور رات کو پیدا کیا اور اس طرح اس نے تمہاری ترقیات کے دروازے کھولے۔یہ بتانے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاشْكُم مِّنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ تم نے جو بھی مانگا میں نے تمہیں دے دیا اور اس قدر احسان ہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے احسانوں کو گن نہیں سکتے۔مانگنے کے دو پہلو ہیں ایک وہ مانگنا ہے جو دعا کے ذریعہ سے مانگا جاتا ہے اور ایک وہ مانگنا ہے جو احتیاج کے نتیجہ میں مانگا جاتا ہے سول کے معنے حاجت کے ہیں۔دعا بھی دراصل انسان اپنی ضرورت کے لئے خدا سے مانگتا ہے اور دعا ئیں بھی قبول ہوتی ہیں بلکہ ایک لحاظ سے تو کہا جا سکتا ہے کہ ہر وہ دعا جو شرائط کے ساتھ کی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔کبھی اس طرح کہ جو چیز خدا سے مانگی جائے اور وہ اس کی بھلائی میں ہوتی ہے اور اسے مل جاتی ہے۔کبھی اس طرح بھی ہوتا ہے کہ جس طرح ایک بچہ آگ پر ہاتھ مارتا ہے اور اسے پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی ماں اس کے ہاتھ کو روک لیتی ہے اسی طرح نادان انسان خدا سے وہ چیز مانگتا ہے جو اس کے لئے خیر و برکت کا موجب نہیں بن سکتی اس لئے خدا تعالیٰ اس کی بجائے کوئی اور چیز جو اس کی بھلائی کے لئے ہوتی ہے اسے عطا کر دیتا ہے۔بعض نادان یہ سمجھتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوئی لیکن خدا تعالیٰ تو بڑا رحیم ہے وہ انسان پر رحم کرنے والا ہے اور انسان کی دعاؤں کو ایک رنگ میں یا دوسرے رنگ میں سننے والا ہے۔پس انسان جو بھی شرائط کے ساتھ اور حقیقی معنے میں دعا کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے لیکن یہاں جو وسیع مضمون بیان ہوا ہے وہ نمایاں ہوتا ہے۔دوسرے پہلو سے کہ اللہ تعالیٰ ہر حاجت پوری کرتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کو ہر قسم کی طاقتیں دے کر پیدا کیا گیا ہے۔میں پہلے بھی