خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 167
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۶۷ خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۷۷ء سے پر ہیز کرتا ہے۔1166 شہید کے متعلق آپ فرماتے ہیں :۔مرتبہ شہادت سے وہ مرتبہ مراد ہے جبکہ انسان اپنی قوتِ ایمان سے اس قدر اپنے خدا اور روز جزا پر یقین کر لیتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے۔تب اس یقین کی برکت سے اعمالِ صالحہ کی مرارت اور تلخی دور ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی ہر ایک قضا و قدر باعث موافقت کے شہد کی طرح دل میں نازل ہوتی اور تمام صحن سینہ کو حلاوت سے بھر دیتی ہے اور ہر ایک ایلام انعام کے رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔سوشہید اس شخص کو کہا جاتا ہے جو قوتِ ایمانی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا مشاہدہ کرتا ہو اور اس کے تلخ قضا و قدر سے شہد شیریں کی طرح لذت اُٹھاتا ہے اور اسی معنے کی رُو سے شہید کہلاتا ہے اور یہ مرتبہ کامل مومن کے لئے بطور نشان کے ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں:۔عام لوگوں نے شہید کے معنی صرف یہی سمجھ رکھے ہیں کہ جو شخص لڑائی میں مارا گیا یا دریا میں ڈوب گیا و با میں مرگیا وغیرہ مگر میں کہتا ہوں کہ اسی پر اکتفا کرنا اور اسی حد تک اس کو محد و درکھنا مومن کی شان سے بعید ہے۔شہید اصل میں وہ شخص ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ سے استقامت اور سکینت کی قوت پاتا ہے اور کوئی زلزلہ اور حادثہ اس کو متغیر نہیں کرسکتا۔وہ مصیبتوں اور مشکلات میں سینہ سپر رہتا ہے یہاں تک کہ اگر محض خدا تعالیٰ کے لئے اس کو جان بھی دینی پڑے تو فوق العادت استقلال اس کو ملتا ہے اور وہ بدوں کسی قسم کا رنج یا حسرت محسوس کئے اپنا سر رکھ دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ بار بار مجھے زندگی ملے اور بار باراس کو اللہ کی راہ میں دوں۔ایک ایسی لذت اور سروران کی روح میں ہوتا ہے کہ ہر تلوار جو ان کے بدن پر پڑتی ہے اور ہر ضرب جو ان کو پیس ڈالے ان کو پہنچتی ہے وہ ان کو ایک نئی زندگی ، نئی مسرت اور تازگی عطا کرتی ہے۔یہ ہیں شہید کے معنی۔