خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 149 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 149

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۱۴۹ خطبہ جمعہ ۵ /اگست ۱۹۷۷ء سے پیار کرنے والے اور خدا تعالیٰ سے انعام حاصل کرنے والے پائے جاتے ہیں۔ہزاروں لاکھوں افراد جماعت احمدیہ میں سچی خوا نہیں دیکھنے والے ہیں کہ خدا کی شان نظر آتی ہے۔کچھ مجھے دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں کیونکہ بعض خوا میں مطالبہ کرتی ہیں کہ دعائیں کی جائیں اور کچھ اس لئے لکھتے ہیں کہ الْمُؤْمِنُ يَرى وَيُری لۀ۔بعض دفعہ خواب دیکھنے والے کو اس کی تعبیر سمجھ نہیں آتی اس واسطے وہ مجھے لکھتے ہیں کہ یہ خواب دیکھی ہے ہمیں تو سمجھ نہیں آرہی کہ اس کی کیا تعبیر ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ کا ایک فضل جماعت پر اس طرح ہے کہ ایک غیر ملک کے دوست نے ایک خواب دیکھی جس کی تعبیر ان کو سمجھ نہیں آئی انہوں نے میرے سامنے بیان کی۔میں نام نہیں لوں گا کہ کس ملک کے متعلق تھی۔میں نے ان کی خواب سن کر پوچھا کہ فلاں علاقے میں یہ زبان بولی جاتی ہے؟ تو انہوں نے حیران ہو کر میرا منہ دیکھا کیونکہ بظاہر مجھے نہیں علم ہونا چاہیے تھا کہ اس علاقے میں وہ زبان بولی جاتی ہے تو وہ کہنے لگے ہاں۔میں نے کہا کہ پھر تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اس علاقے میں جلد احمدیت پھیلے گی۔غرض بڑی کثرت سے خوابیں دیکھتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مجھے علم ہے کہ کوئی دو دن کے بعد پوری ہوئی کوئی دوسال کے بعد پوری ہوئی کوئی پانچ سال کے بعد پوری ہوئی۔خدا اپنی شان دکھاتا ہے۔ہمیں تو پل بھر کی خبر نہیں جو خواب کل کی خبر بھی دے اور پوری ہو جائے وہ سوائے خدا کے اور کوئی نہیں بتا سکتا کیونکہ علام الغیوب صرف اسی کی ذات ہے اور وہی بتا تا ہے۔اس زمانہ کے متعلق پہلوں نے کہا ہے کہ اس وقت بچے بھی نبوت کریں گے یعنی لغوی معنی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ سے خبر پاکر واقعات کی اطلاع دیں گے۔اب بچے نے ارسطو کی فلاسفی تو نہیں بتانی ابھی اس کا ایسا دماغ ہی نہیں۔۱۹۷۴ء میں جو ملاقاتیں ہوتی تھیں ان میں بچے بھی بڑی کثرت سے آتے تھے۔میں ان سے پوچھتا رہا ہوں تو ہر چھوٹا سا گروہ سو دوسو کی جماعت جو مجھے ملتی تھی اس سے بچوں میں سے اکثر ہاتھ اٹھا دیتے تھے کہ جی ہاں ہم نے سچی خوا میں دیکھی ہیں۔اس وقت بڑا مزا آتا تھا کہ ہزار ہا سال پہلے مہدی کی جماعت کے متعلق جو خبر دی گئی تھی اس میں یہ بتایا گیا تھا لیکن آج منافق یہ کہتا ہے عملاً بعض منافقوں نے کہا۔مجھے رپورٹ ملی ہے کہ وہ