خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 145
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۴۵ خطبہ جمعہ ٫۵اگست ۱۹۷۷ء ہوتے ہیں جن کی کسی نیکی یا خیر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے لئے تو بہ کے دروازوں کو کھولتا ہے اور انہیں تو فیق عطا کرتا ہے کہ وہ غلط راہ کو چھوڑ کر اپنے پیدا کرنے والے رب کریم کی طرف واپس آئیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اس آزمائش اور ابتلا کے وقت میں ان کا گند ظاہر ہوجاتا ہے اور ان کا مرض کم ہونے کی بجائے اور بھی بڑھ جاتا ہے اور اس طرح پر وہ یا تو اسلام کو چھوڑ دیتے ہیں اور یا ان کی اسلام کے خلاف جو خفیہ سازش ہوتی ہے وہ خفیہ نہ رہنے کی وجہ سے اپنے اثر کو زائل کر دیتی ہے۔سورہ بقرہ میں منافقوں کے متعلق جو آیات ہیں ان میں بہت سی باتیں بیان ہوئی ہیں۔پہلی تو یہ ہے اور یہیں سے یہ آیات شروع ہوتی ہیں وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ۔اس آیت سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ مومن یا ایمان کا دعویٰ کرنے والے دو قسم کے لوگ ہیں۔ایک وہ جو احکام ظاہری کی بجا آوری کرتے ہیں اور ان کے اندر صداقت کی روح نہیں ہوتی وہ احکام ظاہری کی بجا آوری کرتے ہیں اور اس پر ناز کرتے ہیں اور ان کی زندگی میں تصنع اور نمائش اور ریا کا بڑا دخل ہوتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن کریم کی اصطلاح میں منافق کہا جاتا ہے لیکن دوسرے وہ لوگ ہیں جن کی روح میں صفائی اور سادگی اور جن کی عقل میں بڑی تیز روشنی ہوتی ہے۔وہ صاحب فراست ہوتے ہیں اور وہ سست اعتقاد لوگوں کی طرح نہیں ہوتے ان کی اپنے رب سے ذاتی محبت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے کارخیر میں کوئی تصنع نہیں ہوتا۔عشق میں تو انسان مست ہوتا ہے تصنع کرنے والا نہیں ہوتا۔نمائش کس کے سامنے ! جس کے لئے وہ کام کر رہے ہوتے ہیں ، جس کے لئے وہ قربانیاں دے رہے ہوتے ہیں، جس کے لئے وہ اسلامی تعلیم پر عمل کر رہے ہوتے ہیں وہ تو علام الغیوب ہے پھر نمائش کی کیا ضرورت ہے نمائش کی ضرورت تو انہی کو ہوتی ہے جو خدا سے بھٹک کر کسی اور کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور جو دلوں کو جاننے والا ہے۔اس کے سامنے ریا چل ہی نہیں سکتی۔پس ذاتی محبت کے نتیجہ میں ان کے کاموں میں کوئی تصنع نہیں ، کوئی نمائش نہیں، کوئی ریا نہیں۔ایک یہ گروہ ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنے دعوئی میں سچا ہے تو یہ آیت مومن مخلص اور مومن ایمان کا دعویٰ کرنے والے منافق کے درمیان