خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 144 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 144

خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۴۴ خطبه جمعه ۵ /اگست ۱۹۷۷ء تیسرا وہ گروہ ہے جو منافقوں کا ہے جیسا کہ فرمایا:۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ - (البقرة:9) یہ جو منافقوں کا گروہ ہے اس کے متعلق میں نے شروع میں جو آیات تلاوت کی ہیں ان سے پہلی آیت میں سورتیں نازل ہونے کا ذکر ہے اور پھر اگلی آیت میں فرمایا کہ وہ لوگ جن کے دل میں بیماری ہے اس سورۃ نے ان کے پہلے گناہ پر اور گناہ چڑھا دیئے یہاں تک کہ وہ ایسی حالت میں مریں گے کہ وہ کافر ہوں گے۔کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ان کی ہر سال میں ایک دفعہ یا دو دفعہ آزمائش کی جاتی ہے پھر بھی وہ تو بہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب کوئی ابتلا یا آزمائش آتی ہے تو وہ انسان کو ننگا کر کے دکھا دیتی ہے اس وقت وہ مرض جو دل میں ہوتی ہے اپنا پورا اثر کر کے انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔پھر فرمایا کہ ،، فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا ایسے ہی لوگوں کے لئے فرمایا۔اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ 66 نفاق اور ریا کاری کی زندگی لعنتی زندگی ہے۔یہ چھپ نہیں سکتی۔آخر ظاہر ہوکر رہتی ہے۔اُمت محمدیہ کو یہ بشارت ملی اور اللہ تعالیٰ نے جو اپنی بات کا پکا ہے ان کے حق میں ان کو پورا کیا کہ بے انتہا آسمانی برکات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل آپ کے دامن سے وابستہ ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ نے عطا کیں لیکن جو منافق ہے اسے یہ بات پسند نہیں۔اس لئے جس وقت برکات کا نزول ہوتا ہے، جس وقت قربانیوں کا مطالبہ ہوتا ہے اور ایمان کی آزمائش ہوتی ہے کیونکہ آزمائش کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوا کرتے ہیں محض ایمان کا دعوی کرنے سے تو اللہ تعالیٰ کے فضل نازل نہیں ہوتے ، پس جب ایمان کی آزمائش ہوتی ہے تو جو منافق ہے جس کے دل میں مرض ہے اس کا وہ مرض ننگا ہو کر سامنے آجاتا ہے۔یہ تو درست ہے کہ بہت سے ایسے بھی