خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 114
خطبات ناصر جلد ہفتم ۱۱۴ خطبہ جمعہ ۱۰ / جون ۱۹۷۷ء کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ میں سے ہر ایک کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے اور اپنی امان میں رکھے اور آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہر قسم کی تکلیف سے بچائے اور کام کرنے کی اور اپنے حضور مقبول سعی کی توفیق عطا کرے۔ہمارے لئے دوصد مے اوپر نیچے آئے۔پہلے حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ ہماری محترمہ پھوپھی جان کی وفات ہوئی اور پھر چند دن کے بعد محترم ابوالعطا صاحب کی وفات ہوئی۔آپ سب مردوزن اور چھوٹے بڑے اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ ہم بت پرست نہیں ہیں۔ہم خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لاتے ہیں اس خدا پر جس نے خود کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر کیا اور آپ کے طفیل دنیا نے اس قادرانہ اور متصرفانہ عمل کرنے والے اور فیصلہ کرنے والے کی قدرتوں کے جلووں کا مشاہدہ کیا۔ہم اس قادر و توانا خدا پر ایمان لاتے ہیں اور اسی پر ہمارا تو گل اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔اس قسم کی ہستیاں اس قسم کے وجود ہمارے لئے نمونہ بنتے ہیں اور بنیادی چیز جس میں وہ ہمارے لئے نمونہ بنتے ہیں یہ ہے کہ وہ خدائے رحمن سے منہ موڑنے والے نہیں ہوتے۔جو دو آیات میں نے ابھی پڑھی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص رحمن کے ذکر سے منہ موڑ لے اس پر ہم شیطان مستولی کرتے ہیں اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے اور ہدایت اور صداقت اور سچائی کی راہوں سے اسے روکتا ہے لیکن وہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہے۔بات یہ ہے کہ جہاں تک ہدایت یافتہ ہونے یا نجات یافتہ ہونے کا تعلق ہے یہ صفت رحیمیت کے طفیل نہیں بلکہ صفت رحمانیت کا اس سے واسطہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسی بزرگ ہستی سے بھی جب سوال کیا گیا تو آپ نے بھی یہی فرمایا کہ اپنے عمل سے نہیں بلکہ خدا کی رحمت سے اور اس کے فضل سے میں اس کی جنتوں میں داخل ہوں گا۔رحیمیت کا تعلق ہمارے اعمال سے ہے اور رحمانیت کا تعلق اس واقع سے ہے کہ ہم خواہ کتنی ہی بڑی چیز خدا کے حضور پیش کر دیں خدا تعالیٰ جو خالق گل اور مالک گل اور غنی ہے اس کو تو اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔اگر وہ چاہے تو اپنی رحمانیت سے اسے قبول کر لے اور اگر چاہے تو اپنی رحمانیت کا جلوہ نہ دکھائے اور اسے رد کر دے۔