خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 111 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 111

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۲۷ رمئی ۱۹۷۷ء میں میرے متعلق حضرت صاحب کے الہامات ہیں اور میں ابوبکر ہوں۔آپ نے یہ خواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سنائی تو آپ نے کہا کہ یہ خواب اپنی اماں کو نہ سنانا۔( تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۵۳۱) اپنے رنگ میں پیار کے ساتھ حضرت اُم المومنین کو آپ نے اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ میرا وقت قریب ہے۔حضرت اُم المومنین کا مقام تو بہت بلند تھا۔اسی طرح ایک دن آپ نے خواب دیکھی کہ مولوی عبد الکریم صاحب دروازے کے پاس آئے اور مجھے کہا بی بی جاؤ ابا سے کہو کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اور صحابہ تشریف لے آئے ہیں آپ کو بلاتے ہیں۔میں او پر گئی اور دیکھا کہ پلنگ پر بیٹھے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بہت تیزی سے لکھ رہے ہیں اور ایک خاص کیفیت آپ کے چہرہ پر ہے۔پرنور اور پر جوش۔میں نے کہا کہ ابا مولوی عبد الکریم کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ تشریف لائے ہیں اور آپ کو بلا رہے ہیں۔آپ نے لکھتے لکھتے نظر اٹھائی اور مجھے کہا کہ جاؤ کہو۔“ یہ مضمون ختم ہوا اور میں آیا“۔(اس وقت آپ ”پیغام صلح لکھ رہے تھے )۔غرض اس قسم کی بڑی روشن خوا میں دیکھنے والی تھیں اور بالکل بے نفس تھیں اس واسطے کہ الیس اللهُ بِكَافٍ عَبدَہ کا جو مقام ہے اس میں نفس باقی نہیں رہتا اور اگر نفس کا کوئی مقام باقی رہے تو اکیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَه باقی نہیں رہتا۔اسی واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ساری تا بیر کر کے اور انتہائی تدابیر کر کے سمجھو کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اور سب کچھ خدا کی راہ میں قربان کر کے سمجھو کہ ہم نے کوئی قربانی نہیں دی۔جب تک دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رحمت کو حاصل کر کے تدبیر کو باشمر نہ بنایا جا سکے اس وقت تک تد بیر لا یعنی ہے اور جب تک دعا کے ساتھ اس کی رحمت کو جذب کر کے اپنے اعمال کو مقبول نہ بنایا جا سکے یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ ان کو قبول بھی کر لے (اصل تو یہی چیز ہے ) اس وقت تک ان پر کوئی ثمرہ پیدا نہیں ہوتا۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ ایک نمونہ تھیں مردوزن کے لئے اور بڑا اچھا نمونہ تھیں۔ہم