خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 89 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 89

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۸۹ خطبہ جمعہ ۲۲ ۱٫ پریل ۱۹۷۷ء سے خوف کھاتے ہوئے اس کی پناہ میں آجانا اور خدا تعالیٰ کے احکام کا جوا اپنی گردن پر رکھ لینا۔تمام اوامر الہی اور نواہی کی پابندی کرنا اور اپنے نفس کو خدا کے لئے مار کر اسی سے ایک نئی زندگی کا پالینا یہ سب تقومی اور اس کے نتائج ہیں۔قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة :۸۰) کہ جب تک تزکیۂ نفس نہ ہو علوم قرآنی حاصل نہیں ہو سکتے۔اگر تکبر ہے، اگر انانیت ہے، اگر فخر کی مرض ہے اسی طرح اور بہت سی بداخلاقیوں میں انسان ملوث ہو جاتا ہے، اگر وہ ہیں تو اپنے ہزار وعدوں کے باوجود بھی کوئی شخص قرآن کریم کے اعلان کے مطابق قرآن کریم کے علوم کو حاصل نہیں کرسکتا۔باقی مثلاً حدیث ہے میں نے آپ کو اکثر بتا یا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر ارشاد قرآن کریم کی تفسیر ہے تو یہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تفسیر کی ہے اور کتابوں میں چھپ گئی ہے اس کے پڑھنے کے لئے تقویٰ کی شرط نہیں ہے۔مارگولیتھ جو بڑا متعصب معاند اسلام تھا آکسفورڈ میں بھی پڑھاتا رہا ہے اس نے اسلام کے متعلق بڑی ظالمانہ اور مفسدا نہ کتابیں لکھی ہیں۔ایک دفعہ اس نے یہ دعویٰ کیا کہ مسند احمد بن حنبل (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا ایک مجموعہ ہے اور حدیث کی ایک بہت بڑی کتاب ہے ) اس کے خیال میں اس کے زمانہ میں سوائے اس کے کسی اور نے شروع سے آخر تک نہیں پڑھی اور وہ بڑا فخر کرتا تھا اس پر۔پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کی توفیق دی اور احمدیوں میں سے بھی بہت سے لوگ پیدا ہو گئے جنہوں نے شروع سے آخر تک اس کتاب کو پڑھا۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے قرآن کریم کی جو تفسیر کی گئی اور چھپ گئی جہاں تک اس کا تعلق ہے اس کے لئے تقویٰ کی شرط نہیں ہے البتہ اس کے اسرار کا علم حاصل کرنے اور اس کی روح پالینے کے لئے تقویٰ کی شرط ہے۔قرآن کریم کے روحانی علوم جو انسان کی زندگی میں ایک عظیم انقلابی تبدیلی پیدا کر دیتے ہیں۔اپنے اپنے زمانہ میں خدا تعالیٰ کے محبوب بندوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے اور آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اور تزکیۂ نفس کے بعد جو خدا تعالیٰ کے فضل سے انہیں حاصل ہوا یہ علوم حاصل کئے۔تقویٰ کی بنیادوں پر یہ علوم حاصل کئے گئے اور جہاں تک استعمال کا تعلق ہے