خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 77 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 77

خطبات ناصر جلد ہفتہ LL خطبہ جمعہ ۸ ۱۷ پریل ۱۹۷۷ء علیہ وسلم ہی کی تربیت اور آپ کے روحانی فیوض کے نتیجہ میں اس جماعت کو بھی ملے گی جو جماعت مہدی پر ایمان لائے گی اور ليُظهِرةُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف:۱۰) میں جو وعدہ دیا گیا تھا پیار کے ساتھ اور اسلامی تعلیم کے حسن کے نتیجہ میں ساری دنیا کے دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کریم کے لئے جیتے جائیں گے۔چنانچہ اس زمانہ میں جماعت احمدیہ مولا بس کا نعرہ لگاتے ہوئے، ہر چیز کو بھلاتے ہوئے ، ہر ایک سے پیار کرتے ہوئے کسی سے دشمنی کئے بغیر ، محبت اور پیار اور خدمت کے نتیجہ میں ساری دنیا کے دل اسلام کے لئے جیت رہی ہے۔اس وقت یہ جماعت جس کے افراد بڑی کثرت سے اور بڑی مضبوطی کے ساتھ اپنے ایمانوں پر قائم ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والے ہیں اور جس میں نئے داخل ہونے والے اور نئی پرورش پانے والی انگلی نسل کا ایک بڑا حصہ بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والا ہے۔میں اس وقت کمزوریاں دور کرنے پر مضمون بیان نہیں کر رہا بلکہ وہ چیز جو نمایاں ہوکر دنیا کے سامنے ہے اور جس وجہ سے ہے وہ آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔ہر سال اپنے مسائل لے کر آتا ہے۔ہر سال کی اپنی Problems ہیں۔ایک سال آیا اس کو ہم ۱۹۷۴ ء کا سال کہتے ہیں اس کے اپنے حالات تھے۔اب یہ ۷۷ - ۱۹۷۶ء کا سال ہے اس کے اپنے مسائل ہیں۔یہ مہنگائی کا زمانہ ہے، یہ مہنگائی کا سال ہے لیکن ۱۹۷۴ء کے حالات کی اس جماعت نے کوئی پرواہ نہیں کی اور ہر قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔دوستوں نے دعائیں کیں۔اپنے وقت عزیز کو دنیا کے حصول پر خرچ کرنے کی بجائے خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اپنی خیر خواہی اور بھلائی کے لئے بھی دعائیں کیں اور ان لوگوں کے لئے بھی دعائیں جو خود کو جماعت احمدیہ کا دشمن سمجھتے تھے۔کسی سے کوئی گلہ نہیں تھا۔کسی سے کوئی شکوہ نہیں تھا۔کسی سے کوئی غصہ نہیں تھا۔کسی سے نفرت کا اظہار نہیں تھا۔دوست دعاؤں میں لگے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ مخالفین سلسلہ کے لئے بھی خیر اور بھلائی کے سامان پیدا کرے اور خدا کے اس پیار کو جو ہم اپنی زندگیوں میں دیکھ رہے ہیں ، وہ بھی دیکھنے لگیں۔غرض ان قربانیوں کا ایک حصّہ مَتَاعُ الْحَيَوةِ الدُّنْیا یعنی کا ایک حصہ دنیوی دولت ہے۔