خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 78 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 78

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ ۸ ۱۷ پریل ۱۹۷۷ء چنانچہ اس زمانہ میں احباب نے پہلے سے زیادہ اموال کی قربانی خدا کے حضور دے دی۔ہر سال ہمارا قدم آگے بڑھ رہا ہے۔ہر سال یکم مئی ضرور آتی ہے یعنی جب نیا مالی سال چڑھتا ہے تو پہلا مالی سال ۱٫۳۰ پریل کو ختم ہو جاتا ہے۔یہ تو ہر سال ہوگا جب تک زمین اور سورج کا یہ چکر چل رہا ہے اور انسان اس کرہ ارض پر آباد ہے اس حساب سے ہرسال گزرے گا اور ایک نیا سال چڑھے گا۔ہرسال ہمارے لئے خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نتیجہ میں ہم عاجز بندوں کی کسی خوبی کی وجہ سے نہیں بلکہ محض الہی فضلوں کے نتیجہ میں پہلے سے زیادہ ترقیات کا سال ہوتا ہے۔پہلے سے زیادہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کا سال ہوتا ہے۔پہلے سے زیادہ خدا کی راہ میں ایثار اور قربانی پیش کرنے کا سال ہوتا ہے۔ہر نقطہ نگاہ سے جس میں ایک نقطہ نگاہ مالی قربانی ہے۔اب پھر موجودہ مالی سال کا یہ آخری مہینہ ہے جب مالی سال ختم ہونے کو ہوتا ہے تو اس کے چند ہفتے پہلے میں ذکر کے حکم کے ماتحت جماعت کو اس طرف توجہ دلا یا کرتا ہوں کہ ایک مالی سال ختم ہو رہا ہے جو سال ختم ہو رہا ہے اس کی ذمہ داریاں اسی سال میں نباہ دو۔اس کے قرضے اگلے سال تک لے کر نہ جاؤ ورنہ قرضے بڑھتے جائیں گے اور ان کی ادائیگی میں تکلیف ہوگی۔اس طرح بعض دفعہ انسان خدا تعالیٰ سے دور چلا جاتا ہے اور پھر پیار اور بشاشت سے قربانی نہیں کر سکتا۔میں امید رکھتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ جماعت جو ہر آن خدا کے پیار کو حاصل کرنے والی ہے وہ اپنی اس سال کی مالی قربانیوں کی ذمہ داریوں کو نباہے گی۔اس کا قدم آگے ہی آگے جائے گا۔ان کا قدم نہ ایک جگہ کھڑا ہوگا اور نہ پیچھے ہٹے گا۔ہم اللہ تعالیٰ پر تو گل رکھتے ہیں اور اسی کے احسان اور رحمت پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ امیدیں ہم اپنے نفس سے بھی باندھتے ہیں ورنہ تو یہ نفس بڑا کمزور ہے اور جماعت سے بھی باندھتے ہیں۔اگر چہ جماعت احمد یہ د نیوی نقطۂ نگاہ سے اور مالی اعتبار سے کمزور ہے اور ہر لحاظ سے دھتکاری ہوئی ہے لیکن اس کا تعلق اس ہستی سے ہے جس کا حکم ہر دو جہان پر چلتا ہے۔وہ ہم سے اپنے پیار کا سلوک کر رہا ہے اور ہمیں تو تھکن بھی محسوس نہیں ہوتی۔ایسا لگتا ہے کہ جس طرح ایک چھوٹا بچہ جس کو ابھی چلنا نہ آیا ہو اس کو اس کا پیار کرنے والا باپ اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا ہے اسی طرح باپ سے