خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 75
خطبات ناصر جلد ہفتم ۷۵ خطبہ جمعہ ۱/۸ اپریل ۱۹۷۷ ء میں چلنی چاہیے۔چنانچہ یہ انگوٹھی خلافت ثالثہ کے قیام پر مجھے دی گئی۔اب ضمنا یہ بات آگئی ہے تو میں سب کو سنا دیتا ہوں تا کہ اس کے بارہ میں اگلی نسلوں کے لئے آپ سب کی گواہی رہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہی انگوٹھی جو اس وقت میری انگلی میں ہے اور جس پر میں نے کپڑا چڑھایا ہوا ہے ہماری محترمہ آپا صدیقہ صاحبہ کو دی اور یہ کہا کہ میری وفات کے بعد جو بھی خلیفہ منتخب ہو یہ اس کی ہوگی اور اس کے بعد جو خلیفہ ہو اس کی ہوگی۔جب تک یہ سلسلہ خلافت جماعت مومنین میں قائم رہے یہ انگوٹھی ایک خلافت سے دوسری خلافت کی طرف منتقل ہوگی۔ایک بڑے بیٹے سے دوسرے بیٹے کی طرف منتقل نہیں ہوگی۔چنانچہ انتخاب خلافت کے بعد اس وصیت کے ساتھ ہماری محترمہ آپا صدیقہ صاحبہ نے یہ انگوٹھی مجھے دی۔ایک دفعہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے یہ انگوٹھی پہنی ہوئی تھی ، آپ نے کسی کام کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس کا نگ ڈھیلا تھا وہ گر گیا۔آپ نے جب دیکھا کہ نگ جس کے اوپر الیس الله بکاف عبد کا کندہ ہے گم ہو گیا ہے تو کچھ دیر کے لئے آپ کو بڑی پریشانی اٹھانی پڑی۔سب کام چھوڑ کر اور چھڑوا کر گھر کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک ڈھونڈ مارا مگر انگوٹھی کا نگینہ نہ ملا۔بڑی پریشانی ہوئی اور گھنٹے دو گھنٹے کے بعد کسی کام کے لئے پھر جیب میں ہاتھ ڈالا تو جیب میں نگ پڑا ہوا تھا جس کو گھر میں تلاش کر رہے تھے۔اس لئے میں نے یہ سمجھا کہ میں یہ خطرہ کیوں مول لوں ، عاجز انسان ہوں اس کے اوپر کپڑا چڑھوائے رکھتا ہوں تا کہ نگ اپنی جگہ پر قائم رہے اور اس کے گرنے کا خطرہ نہ رہے۔اگر چہ وہ اس وقت ہل نہیں رہا لیکن میں یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتا۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک انگوٹھی پر ”مولا بس“ کندہ ہے۔اس حقیقت کو جب ایک مسلمان پہچان لیتا ہے تو پھر اس کے لئے دنیا کے اموال میں ، دنیا کی قوتوں اور استعدادوں میں، دنیا کی ذہانتوں اور فراستوں میں کوئی کشش نہیں ہوتی۔وہ سمجھتا ہے مولا بس اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو شروع میں ایک لمبے عرصہ تک دکھ سہنے پڑے، ان کو دھوپ میں لٹایا گیا ، ان پر پتھر رکھے گئے اور جس طرح بھی ممکن تھا ان کو تکالیف دی گئیں لیکن انہوں نے انتہائی ثبات قدم کا نمونہ دکھایا کیونکہ ان کو خدا کا یہ حکم تھا