خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 74 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 74

خطبات ناصر جلد ہفتہ ۷۴ خطبہ جمعہ ۸ ۱۷ پریل ۱۹۷۷ء مکمل شریعت و ہدایت کے باوجود کچھ لوگ عقل سے کام نہیں لیں گے اور وہ شیطان کی طرف دوڑیں گے۔بجائے اس کے کہ خدائے رحمان کی طرف ان کی حرکت ہوا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کے مطابق ان کے قدم زمین پر پڑیں وہ شیطان کے گروہ کی طرف چلیں گے لیکن ایک دوسرا گروہ بھی ہے جو ایسا نہیں ہو گا۔وہ ایسے لوگ ہوں گے جو عقل رکھتے ہوں گے، جو ایمان رکھتے ہوں گے، جو خدا تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوں گے، جو سب کچھ کرنے کے بعد بھی یہ سمجھتے ہوں گے کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔جو آخری چیز ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے جس کے نتیجہ میں انسان چھوٹا ہو یا بڑا خدا کی رضا کی جنتوں میں داخل ہوتا ہے۔یہ گروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اب تک اُمت مسلمہ میں پیدا ہوتا رہا ہے۔ایسے لوگوں نے بڑی قربانیاں دیں اور انہوں نے اپنی زندگیاں بڑی فراست سے گزاریں اور خدا کی رضا اور اس کے پیار کو حاصل کرنے اور دنیا کومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے کے لئے انتھک کوشش کی تا کہ ساری دنیا اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کی رضا کو حاصل کرے۔شروع سے ہی ایسا گروہ چلا آ رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو بڑی کثرت سے ہمیں نظر آتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں کی ، انہوں نے اپنے آراموں کی کوئی پرواہ نہیں کی ، انہوں نے اپنے عزیزوں کی ، اپنے رشتہ داروں کی اور دوستوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔صرف ایک ہی ہستی تھی جس پر وہ مر مٹے تھے اور ایک ہی نعرہ تھا جو ان کی زبان سے نکلتا تھا اور وہ تھا مولا بس۔اللہ مل جائے تو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک انگوٹھی کے اوپر بھی مولا بس کندہ ہے۔آپ کی تین انگوٹھیاں تھیں جو بعد میں تین بیٹوں کو ورثے میں ملیں۔ان میں سے ایک الیس الله يكان عبد کا والی انگوٹھی ہے جو تین دفعہ قرعہ اندازی کے بعد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے وراثت میں ملی تھی لیکن جب ان کو اللہ تعالیٰ نے خلعت خلافت عطا کیا تو آپ نے سمجھا کہ یہ اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی ( جو اس وقت میں نے پہن رکھی ہے ) خاندانی ورثے میں نہیں جانی چاہیے بلکہ خلافت