خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 67
خطبات ناصر جلد ہفتم ۶۷ خطبہ جمعہ تکیم اپریل ۱۹۷۷ء تعلق ان کا محبت کا تعلق ان کا اخوت کا تعلق پاکستان میں بسنے والے احمدی بھائیوں سے بھی ہے۔اس موقع پر کہیں سے وہ خود نمائندہ بن کر آجاتے ہیں۔کہیں سے آسکتے ہیں اور پہنچ سکتے ہیں کہیں سے نہیں پہنچ سکتے۔وہ اپنے اپنے ملک کے بجٹ بھیجتے ہیں اور وہ مجموعی بجٹ ہمارے ملک سے اب خدا کے فضل سے آگے نکل گیا ہے اور نکلنا بھی چاہیے کیونکہ دنیا کی آبادی کا ایک بڑا مختصر سا حصہ پاکستان میں آباد ہے اور بہت زیادہ حصہ پاکستان سے باہر ساری دنیا میں آباد ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ جب دنیا کی اکثریت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی تو دنیا کا رنگ ہی بدل جائے گا اور ہمارا رنگ بھی بدل جائے گا۔پھر اور قسم کی ذمہ داریاں ہوگی۔پھر اور قسم کے کام ہوں گے جو کرنے ہوں گے لیکن بہر حال یہ تبدیلیاں جو زمانے کے ساتھ ساتھ آتی رہتی ہیں وہ بنیادی چیز کو تبدیل نہیں کرتیں اور وہ بنیادی چیز یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت کا تعلق قائم کر کے اس کے ذکر میں مشغول رہنا اور اس سے خیر اور برکت چاہنا اور اس کی برکت اور رحمت کو حاصل کرنا اسی کی توفیق اور اسی کے فضل کے ساتھ۔اللہ تعالیٰ ہمارے لئے ایسے سامان پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ ہماری مشاورت کو بھی دنیا کی خیر کے لئے بنا دے اور اس کے نتیجے ایسے نکلیں کہ دنیا کے دُکھ دور ہوں اور دنیا کو سکھ پہلے سے زیادہ حاصل ہونے لگیں۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۱ رمئی ۷ ۱۹۷ ء صفحه ۲ تا ۵ )