خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 66 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 66

خطبات ناصر جلد ہفتم ۶۶ خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۷۷ء اس تکلیف کو دور کرنے میں۔یہ درست ہے کہ مدینے میں سامان اکٹھا کرنے اور پھر مکہ تک پہنچانے کے لئے تو وقت کی ضرورت تھی لیکن اسی وقت اس نظام کی ابتدا کر دی جس نے ان لوگوں کی ، بھوکا مارنے والوں کی ، بھوک کو دور کرنے اور تکلیف کو دور کرنے کے سامان کرنے تھے۔جو شخص خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتا ہے۔اس کے لئے چین اور سکون اور اطمینان کی زندگی مقدر ہو جاتی ہے۔ہم صرف اپنے لئے سکھ نہیں چاہتے بلکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ساری دنیا کو اطمینان اور سکھ پہنچانے کے لئے جماعت احمدیہ کا قیام کیا گیا ہے۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہیں۔اس معنی میں کہ ہمارے دل بھی ذکر کر رہے ہوں اور ہماری زبانوں پر بھی اس کا ذکر ہو۔اس معنی میں کہ ہمارا ذاتی تعلق اپنے رب کریم سے ہو۔اس معنی میں کہ ہم اپنی سمجھ اور طاقت کے مطابق اس کی صفات اور اس کے اسمائے حسنہ کا عرفان رکھنے والے ہوں۔ہمیں ان اسماء کی معرفت حاصل ہو ان کے مطابق ہم اپنی زندگیاں ڈھالنے والے ہوں۔وہ رنگ ہم اپنے اعمال پر چڑھانے والے ہوں اور خدا تعالیٰ کی مخلوق کے، محض انسان نہیں، خدا تعالیٰ کی مخلوق کے سکھ اور چین کا انتظام کرنے والے ہوں۔اس لئے جماعت کو کثرت سے خدا تعالیٰ کے ذکر میں ، دل کے ذکر میں بھی اور زبان کے ذکر میں بھی مشغول رہنا چاہیے اور اس کے ساتھ ہی آجاتا ہے دعا کرنا۔انسان اپنے زور سے نہ خود اپنے لئے کچھ حاصل کر سکتا ہے نہ دنیا کے لئے کچھ حاصل کر سکتا ہے جب تک اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے بندوں کو اس کی توفیق عطا نہ کرے ایسا نہیں ہو سکتا۔پس کثرت سے دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے سکھ اور چین اور ان کی بھلائی اور خیر خواہی اور ان کے دکھ کو دور کرنے کے سامان پیدا کرے اور خدا تعالیٰ ہماری مجلسوں کو بھی ایسا بنا دے کہ ان کے نتائج اس عالمین کی بھلائی کے لئے نکلیں اور ظاہر ہوں۔اب آج ہی کچھ وقت کے بعد مشاورت ہوگی۔اس میں ہم بیٹھیں گے ہم سوچیں گے۔ہم مشورہ کریں گے۔ہم غور کریں گے ہمارے سامنے اپنے ملک کی احمد یہ جماعت کا مثلاً بجٹ آئے گا۔مالی قربانیاں آئیں گی۔اب تو ساری دنیا میں جماعت ہائے احمد یہ پھیل چکی ہیں ان کا پیار کا