خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 65 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 65

خطبات ناصر جلد ہفتم خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۷۷ء کچھ حد تک صحیح بھی کر رہے ہیں اور بہت حد تک غلط بھی کر رہے ہیں یا کر سکتے ہیں۔ایسے مہلک ہتھیار بنالئے ہیں۔ایک مومن کا دماغ کہے گا کہ ایٹم کا یہ مقصد تو نہیں کہ جو چیز انسان کی خدمت کے لئے پیدا کی گئی ہے وہ اس کی گردن اڑا دے وہ تو انسان کے فائدے کے لئے ہی استعمال ہونی چاہیے لیکن جو خدا تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتے جو خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت نہیں رکھتے جو اللہ تعالیٰ کو پہچانتے نہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذاتی تعلق نہیں وہ بہکتے ہیں اور دنیا کے لئے تکلیف کا اور دُکھ کا سامان پیدا کرنے میں کوئی حجاب اور جھجک نہیں محسوس کرتے۔ان میں سے بعض کو دوسروں کو تکلیف پہنچانے میں لذت محسوس ہوتی ہے اور ایک وہ تھا ہمارا آقا کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء :(۴) نیکی بجالانے کی ذمہ داری تو ہر فرد واحد کی تھی مگر وہ ایمان اور عمل صالح نہیں بجالا رہے تھے اور ان کے لئے اور ان کی فلاح کے لئے راتوں کو تڑپ رہا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔یہ تو ذکر اللہ کے نتیجے میں ایک عظیم مثال ہے جس سے بڑی اور زیادہ شان والی اور کہیں نہیں ملتی۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے لئے اُسوہ بنایا گیا ہے۔آپ کا رنگ ہمیں اپنی زندگی اور اپنے اعمال پر چڑھانا ضروری ہے۔اس واسطے اُمت محمدیہ کی بھی یہ صفت ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرنا چاہیں ان کی یہ صفت کہ وہ کسی کا ذرا سا دکھ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔میں نے سوچا کئی دفعہ سوچا اور میں نے بیان بھی کیا کہ مکی زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو رد وسائے مکہ نے کتنا دکھ پہنچایا۔بھوکوں مارنے کی انتہائی کوشش کی۔اللہ تعالیٰ نے نہیں مرنے دیا یہ تو اس کی شان تھی لیکن انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔پھر خدا تعالیٰ نے ہمارے سامنے جو اُسوہ رکھا تھا اس کو نمایاں کر کے ہمارے سامنے لانے کے لئے اور ان کو بتانے کے لئے کہ خدا کے بندے اور بتوں کے پجاری میں فرق ہے ان کے اوپر قحط کا زمانہ وارد کیا۔انہوں نے پیغام بھیجا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جن کو شعب ابی طالب میں قید کر دیا گیا تھا اور کھانے کے سب راستے بند کر دئے گئے تھے کہ اپنے بھائیوں کو بھوکا دیکھنا پسند کرو گے؟ ہم آخر تمہارے بھائی ہیں۔ہمارے اوپر قحط کا زمانہ ہے۔جہاں تک میں نے سوچا اور جہاں تک میر اعلم ہے آپ نے ایک سیکنڈ بھی دیر نہیں کی ان کی