خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 56
خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۶ خطبہ جمعہ ۲۵ مارچ ۱۹۷۷ء کے ساتھ ہو وہ دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت رکھنے اور اس کے احکام کی بجا آوری میں ہونا چاہیے۔اس ضمن میں اور بہت سی باتیں ہیں تفصیل کی بھی اور اصول کی بھی جنہیں قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔بہر حال اُمت مسلمہ کو بنی نوع انسان کی خیر خواہی کے لئے ، ان کی بھلائی کے لئے اور ان کی خدمت کے لئے قائم کیا گیا ہے۔یہ جو بھلائی کرنے کا عمل ہے یہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔اصولی طور پر خیر پہنچانے کے متعلق احکام پر اس حد تک عمل کیا جا سکتا ہے جتنے کی توفیق ملے اور اس خیر اور اس بھلائی کی توفیق کے نتیجہ میں کسی ایک آدمی کو یا چند آدمیوں کو یا ایک محدود گروہ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے کیونکہ اس سے زیادہ کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔مثلاً کسی کا اپنے مال میں اپنے بھائی کو حصہ دار بنانا۔اب جتنا کسی کے پاس مال ہو گا اسی میں وہ دوسرے کو حصہ دار بنا سکتا ہے۔جب ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار بھائی بھائی بنائے گئے تو انصار میں سے جس کے پاس جتنا مال تھا اس میں اپنے مہاجر بھائی کو برابر کا شریک کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔یہ ٹھیک ہے کسی کے پاس مال تھوڑا تھا اور کسی کے پاس زیادہ تھا لیکن جتنا جتنا تھا وہ کہتے تھے آؤ ہم نصف نصف کر لیتے ہیں لیکن لینے والوں نے کہا کہ ہمیں تمہارا مال لینے کی ضرورت نہیں۔بعض نے بڑی معمولی معمولی رقمیں قرض کے طور پر لے لیں انہوں نے کہا خدا تعالیٰ نے ہمیں صحت دی ہے، طاقت دی ہے، ہمت دی ہے اور پھر یہ بھی کہ ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے۔الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِّنَ الْيَدِ السُّفلی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہر حال اچھا ہے تو ہم کیوں نچلے درجے کو قبول کریں ہم محنت کر کے کھائیں گے بھی اور کوشش کریں گے کہ اپنے بھائیوں کی مالی لحاظ سے مدد بھی کریں۔غرض یہ مضمون بہت وسیع ہے اور یہ واقعات بڑے ایمان افروز ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی میں رونما ہوئے۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ مال میں شریک اپنے ضرورت مند بھائی کے لئے بھلائی کے سامان پیدا کرنا۔یہ بھی خیر کا حصہ ہے لیکن محدود ہے۔دنیا کے جو اموال ہیں اور دنیا کی جو طاقت ہے اور دنیا کے جو اوقات ہیں۔یہ سارے محدود ہیں کیونکہ انسان کی زندگی محدود ہے لیکن خدا تعالیٰ کی طاقت غیر محدود ہے۔وہ غیر محدود طاقتوں کا مالک ہے۔اس لئے اس کی خیر کا عمل اپنی وسعت اور افادیت کے لحاظ